خواب سراب — Page 82
اذیت ناک پنجرہ ہو چکا ہے اذیت ناک پنجرہ ہو چکا ہے که اب زخمی پرندہ ہو چکا ہے مسلسل بارشیں بھی کیا کریں گی کوئی اندر سے صحرا ہو چکا ہے میں بازاروں میں جا کر دیکھتا ہوں بہت انسان ستا ہو چکا ہے عیادت کو مری وہ رہے ہیں انہیں کہہ دو جنازه ہو چکا ہے محبت دوستی رشته ڈھونڈو یہاں تبدیل نقشه ہو چکا ہے 82