خواب سراب

by Other Authors

Page 80 of 129

خواب سراب — Page 80

مسلک کے نام پر لگی جنگوں سے تنگ ہوں مسلک کے نام پر لگی جنگوں سے تنگ ہوں میں مفتیوں کے روز کے فتووں سے تنگ ہوں مولا یہ عشق وشق کے چکر سے جاں چھڑا میں ایک چاند شخص کے خوابوں سے تنگ ہوں اک یہ کہ اُس حسین کی آنکھیں شراب ہیں پھر اُس کے روز روز کے وعدوں سے تنگ ہوں بارش ہو دُکھ ہو ہجر ہو، آتے بہت ہیں یاد میں اس لئے بھی فیض کے شعروں سے تنگ ہوں آنکھوں میں اشک دیکھ کر پاتی ہے تو قرار دنیا میں تیرے درد کے شوقوں تنگ ނ ہوں 80