خواب سراب — Page 6
80 82 84 600000 86 88 90 90 93 94 40 97 99 99 101 103 105 108 109 110 111 112 114 30 خواب سراب مسلک کے نام پر لگی جنگوں سے تنگ ہوں 31 اذیت ناک پنجرہ ہو چکا ہے 32 دعا کی لو سے دیے میں جلانے والا ہوں 33 کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں 34 آنکھ ہے اشکبار ویسے ہی 35 اگر وہ سامنے آئے ، وہ اتنا پیارا ہے 36 اے میرے خدا مرے چارہ گر ، اُسے کچھ نہ ہو 37 کسے ہجرتوں کا ملال ہے 38 یہ دنیا ہے، یہاں پر داستانیں مار دیتی ہیں 39 وہ بھی دشمن داری کل پر رکھنے والا نئیں 40 دس ہیں میں مل جاتی ہے بازار سے خوشبو رضائے یا ر ہے جب انتہا تو غم کیا ہے یار 42 دیپ بن کر جلو آخری سانس تک 43 ڈوبتا جا رہا ہے دل میرا 44 عداوت میں خسارہ ہو گیا تو 45 قطعہ - کہہ نہیں سکے مگر 46 دنیا کی دل دُکھانے کی عادت نہیں گئی 47 وہ جسے میں نے دل و جان سے چاہا، آبا 48 اچھا ہے سو وہ تنہا ہے 6