خواب سراب — Page 5
42 44 46 46 48 49 49 51 54 53 55 57 61 63 65 66 68 71 73 خواب سراب 11 ستارہ بن کے رہو یا کسی دئے میں رہو 12 اُداس کیوں ہو لوگ سب مل کے اگر دیپ جلانے لگ جائیں 14 میرے لئے جو آج سے تو غیر ہے تو خیر ہے 15 بہت بُرے ہو 16 کچھ دل کو ہیں آزار ذرا اور طرح کے 17 کوئی غیبی ہاتھ سہارا ہو گیا تو 18 کبھی یقیں یہاں وہاں کبھی گماں اِدھر اُدھر 19 تم سے کیا چھپانا ہے 20 میں صاف صاف یہ کہتا ہوں استعارے بغیر 21 سخنوروں کے شہر میں وہ شاہ سخن کمال است 22 ہم نہیں وہ لوگ جو پتھر اٹھا کر مار دیں 23 اُداس لوگوں کو جو خوشی کی خبر سنائے ، وہ خوبصورت 24 ابھی وہ لوگ باقی ہیں 25 سرمئی شام ہے موسم ہے سہانا ،نا 26 وصال یار کو جانا تو ہو کے باوضو جانا 27 میں محبت کے بارے میں ویسے تو زیادہ نہیں جانتا 8 مانا کہ وہ بھی آج تک مانا تو ہے نہیں 29 سند ر روپ اور چاندی رنگت لے بیٹھے گی 74 76 78 5