خواب سراب — Page 50
میں چاہتا ہوں وطن کے لوگوں کے نام خط میں پیام لکھوں وطن فروشوں کو پھر سے رہبر بنا رہے ہو بہت بڑے ہو وہی پٹاری وہی سپیرے وہی مداری وہی تماشے تماش بینوں میں تم بھی تالی بجا رہے ہو بہت بُرے ہو جھوٹ غیبت ہیں زہر قاتل یہ راستے ہیں ہلاکتوں کے یہ زہر بچوں کو اپنے ہاتھوں سے کھلا رہے ہو بہت بڑے ہو کہو مبارک یہ اہلِ شب سے کسی فسانے کسی غزل میں یہ تم جو صبح ازل کی کرنیں چھپا رہے ہو بہت بڑے ہو 50