خواب سراب — Page 49
بہت بڑے ہو ہزار سجدوں کے بعد بھی گھر جلا رہے ہو بہت بڑے ہو کسی کے دل کو بنام مذہب دُکھا رہے ہو بہت بڑے ہو وہی ہے رستم وہی ولی ہے جو نفس اپنے سے جیت جائے شکست اپنے وجود سے ہی جو کھا رہے ہو بہت بڑے ہو یہ خواب رنگت گلاب صورت ثواب باتیں شراب آنکھیں یہ روز سڑکوں پہ حادثے جو کرا رہے ہو بہت بڑے ہو سُنا ہے میں نے کہ جا کے حوروں کے کان بھرتے ہو میرے بارے مری گزشتہ محبتوں کا بتا رہے ہو بہت بڑے ہو 49