خواب سراب — Page 46
لوگ سب مل کے اگر دیپ جلانے لگ جائیں لوگ سب مل کے اگر دیپ جلانے لگ جائیں اے سیاہ رات ترے ہوش ٹھکانے لگ جائیں ہم تو ہر دور میں خوشبو کے پیمبر ٹھہرے ہم تو صحرا میں رہیں، پھول اُگانے لگ جائیں وہ گلابوں سے ڈھلا شخص جو مل جائے مجھے ساری دنیا کے میرے ہاتھ خزانے لگ جائیں میں ہوں برباد مگر اس لئے چپ رہتا ہوں یہ نہ ہو لوگ تیرا نام لگانے لگ جائیں 46