خواب سراب — Page 45
تم اپنے دل کے لہو سے روشن محبتوں کے چراغ رکھنا فصیل شب سے اُٹھیں گے سورج ، یہ طے شدہ ہے، اُداس کیوں ہو وہ جس نے دل کے ہزار ٹکڑے کئے رقیبوں سے بات کر کے بڑی محبت سے آ کے مجھ سے وہ پوچھتا ہے، اُداس کیوں ہو جو دُکھ اُٹھا کے بھی مسکرائے گا، ایک دن کامیاب ہوگا کتاب ہستی میں لکھنے والے نے لکھ دیا ہے، اُداس کیوں ہو وکیل اُن کے، گواہ ان کے، یہ شہر ان کا، سپاہ ان کی مگر مبارک یقین رکھنا، ابھی خدا ہے، اُداس کیوں ہو 45 45