خواب سراب — Page 34
کوئی ایسا جادوٹو نہ کر کوئی ایسا جادو ٹونہ کر مرے عشق میں وہ دیوانہ ہو یوں اُلٹ پلٹ کر گردش کی میں شمع تو وہ پروانہ ہو ذرا دیکھ کے چال ستاروں کی کوئی زائچہ کھینچ قلندر سا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ جو کر بخت سکندر سا کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے کوئی ایسا دے تعویذ مجھے وہ مجھ پر عا عاشق ہو جائے 34