خواب سراب — Page 122
دشمنوں سے بات ہم سے یاریاں دشمنوں سے بات ہم سے یاریاں چھوڑ دے اے دوست یہ فنکاریاں میرے پاؤں میں تھے مجبوری کے جال وہ سمجھتا تھا میں لارے لاریاں وہ جو میک اپ میں مجھے پیرس لگی جب ہوئی بارش تو نکلی کھاریاں مجھ سے پتھر کو گہر سمجھے ہیں لوگ اے مرے مولا ترکی ستاریاں ایک باجی کو تھا آنٹی کہہ دیا آج تک وہ کیس میں بھگتا ریاں 122