خواب سراب — Page 121
ریت پر نقش بناتے ہوئے تھک جاتے ہیں ریت پہ نقش بناتے ہوئے تھک جاتے ہیں خواب آنکھوں میں سجاتے ہوئے تھک جاتے ہیں مہرباں کوئی نہیں شہر میں اک تیرے سوا یوں تو ہم ہاتھ ملاتے ہوئے تھک جاتے ہیں یوں ہی قبروں میں نہیں سوئے تھکے ہارے بدن لوگ رشتوں کو نبھاتے ہوئے تھک جاتے ہیں زندگی پیاس کا صحرا ہے، جہاں قید ہیں ہم اور ہم پیاس بجھاتے ہوئے تھک جاتے ہیں اُن کے سینوں میں بھی ہوتے ہیں تلاطم غم کے وہ جو اوروں کو ہنساتے ہوئے تھک جاتے ہیں زندگی اور تیرا قرض چکائیں کب تک اب تو ہم شعر سناتے ہوئے تھک جاتے ہیں محسن نقوی کے خوبصورت مصرعے ہاتھ ہاتھوں سے ملاتے ہوئے تھک جاتا ہوں“ کو لے کر یہ غزل لکھی ہے۔121