خواب سراب

by Other Authors

Page 118 of 129

خواب سراب — Page 118

ایک دریا دشت کے اُس پار تھا ایسا کہ بس دل کسی کے پیار میں سرشار تھا ایسا کہ بس اور پھر وہ بھی گل و گلزار تھا ایسا کہ بس ایک تو اُس قافلے میں لوگ تھے مہتاب سے اور پھر وہ قافلہ سالار تھا ایسا کہ بس آئینے رکھے ہوں جیسے چاندنی کے شہر میں روبرو میرے وہ حسن یار تھا ایسا کہ بس پوچھتے ہو دوست کیا احوال وصل یار کا ایک دریا دشت کے اُس پار تھا ایسا کہ بس وہ نظارہ تھا کہ آنکھیں روشنی سے ڈھل گئیں صورت خورشید وہ دلدار تھا ایسا کہ بس 118