خواب سراب — Page 117
مجھ سے پتھر نے بھی اک دن مجھ سے پتھر نے بھی اک دن کیمیا ہونا ہی تھا مل گیا تھا وہ مجھے، سو معجزہ ہونا ہی تھا میں نے اس کی راہ میں رکھے تھے خوشبو کے چراغ مرا اُس گلبدن سے رابطہ ہونا ہی تھا موسم پت جھڑ مجھے ایسے نہ حیرانی سے دیکھ اُس نے دیکھا تھا مجھے، میں نے ہرا ہونا ہی تھا وہ دعا کرتے ہوئے تھکتا نہ تھا، تھکتا نہ تھا آسماں سے اُس کے حق میں فیصلہ ہونا ہی تھا کل کوئی لفظ محبت سُن کے دُکھ سے رو پڑا اور بھی دنیا میں مجھ سا دل دُکھا ہونا ہی تھا 117