کسر صلیب

by Other Authors

Page 79 of 443

کسر صلیب — Page 79

29 حضرت یح موعود علیہ السلام کے علم کلام کے تعلق چند ضروری امور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی خصوصیات کا یہ تذکرہ تشنه تکمیل رہے گا اگران ضروری امور اور نمایاں پہلوؤں کا ذکر نہ کیا جائے جو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام میں نظر آتے ہیں۔آپ کے عیسائیت کے خلاف علم کلام کو مجھنے کے لئے ان امور کو جانا اور مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔١ - وفات مسیح علیہ السّلام عیسائیت کے رد میں سیدنا حضرت سیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کا ایک بہت ہی نمایاں پہلو یہ ہے کہ آپ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت فرمائی ہے اور اس بات کو اسقدر وضاحت اور تکرار سے بیان فرمایا ہے کہ اس مسئلہ کا کوئی گوشہ نظر اندا نہ نہیں ہوا۔دراصل یہ سید نا حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی خداداد بصیرت کا نتیجہ تھا کہ آپ نے اسلام کے مقابل پر عیسائیت کو سرنگوں کرنے کے لئے فیسائی مذہب کے اس عقیدہ پر گرفت کی جو اس مذہب اور اس کے باطل ادعا کیلئے رگ جان کی حیثیت رکھتا ہے۔عیسائی حضرات اسلام کے مقابل پہ عیسائیت کی برتری کی دلیل کے طور پر حیات مسیح علیہ السلام کے خیال کو پیش کرتے ہیں اور پھر عیسائی عقائد کے اثبات کے لئے بھی حیات سیچے کو بنیاد بنا کہ اسکی الوہیت مسیح کا استدلال کرتے تھے۔جب اللہ سمیت مسیح ثابت کہ لیتے تو پھر تثلیث اور کفارہ کے مسئلوں کو ثابت کر نے کے لئے ان کو ایک بنیاد مل جاتی تھی۔سید نا حضرت بی موعود علیہ السلام نے اپنی بعثت کے ہر دو مقاصد یعنی غلبہ اسلام اور الطارق مسیحیت کے پیش نظر وفات مسیح کے مسئلہ کو پیش فرمایا۔آپ نے خداتعالی سے خیر یا کہ اعلان فرمایا :- ابن مریم مرگب حق کی قسم داخلِ جنت ہوا وہ محترم آپکا کے اس ایک اعلان نے ایک طرف تو مسلمانوں کے غلط خیال کی تردید کی جو حضرت علی علیہ السلام کو چوتھے آسمان پر زندہ یقین کرتے تھے اور اپنی کی دوبارہ آمد کے منتظر تھے اور دوسری طرف عیسائیت کے سب عقائد کی بنیاد ہی مسمار کر دی جو حیات بسیج سے الوہیت مسیح اور پھر الوہیت مسیح سے تثلیث