کسر صلیب — Page 398
(٣) کی نہ تھی جیسے آج کل کی پھانسی ہوتی ہے جس پر ٹکاتے ہی دو تین منٹ کے اندر ہی کام تمام ہو جاتا ہے بلکہ اس میں توکیل وغیرہ ٹھونک دیا کر تے تھے اور کئی دن رہ کر انسان جھوکا پیاسا مر جاتا تھا مسیح کے لئے اس قسم کا واقعہ پیش نہیں آیا وہ صرف دو تین گھنٹہ کے اندر ہی صدی سے اتار لئے گئے۔یہ تو وہ واقعات ہیں جو انجیل میں موجود ہیں جو مسیح کے صلیب پر نہ مرنے کے لئے زیر دست گواہ ہیں " اے " اگر انجیل کو غور سے دیکھا جائے تو انجیل بھی یہی گواہی دیتی ہے۔کیا مسیح کی تمام رات کی دردمندانہ دعارہ ہو سکتی ہے۔کیا مسیح کا یہ کہنا کہ میں یونس کی طرح تین دن قبر میں رہوں گا اس کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ مردہ قبر میں رہا۔کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں تین دن مرا رہا تھا۔کیا پیلاطوس کی بیوی کے خواب سے خدا کا یہ منشاء معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کو صلیب سے بچائے۔ایسا ہی مسیح کا جمعہ کی آخری گھڑی صلیب پر چڑھائے جانا اور شام سے پہلے اتا ر سے جانا اور ریم قدیم کے موافق تین دن تک صلیب پر نہ رہنا اور ہڈی نہ توڑ سے جانا اور خون کا نکلنا۔کیا یہ تمام وہ امور نہیں ہیں جو باوا از بلند پیکار رہے ہیں کہ یہ تمام اسباب مسیح کی جان بچانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور دعا کرنے کے ساتھ ہی یہ رحمت کے اسباب ظہور میں آئے۔بھلا مقبول کی ایسی دعا جو تمام رات رو رو کر کی گئی کب تو ہو سکتی ہے۔پھر سیح کا مصلیت کے بعد حوالدیوں کو ملنا اور زخم دکھلانا کس قدر مضبوط دلیل اس بات پر ہے گروہ صلیب پر نہیں مرا۔۔۔۔۔غرض ہر ایک پہلو سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کی صلیب پر جان بچائی گئی " سے (۴) " یہ خدا تعالیٰ کی شان ہے کہ مسیح کے بچانے کے لئے اندھیرا ہوا، بھونچال آیا ، پیلاطوس کی بیوی کو خواب آئی۔سبت کے دن کی رات قریب آگئی جس میں مصلوبوں کو صلیب پر رکھنا ہوا نہ تھا۔حاکم کا دل بوجہ ہولناک خواب کے مسیح کے چھڑانے کے لئے متوجہ ہوا۔یہ تمام واقعات خدا نے اس لئے ایک ہی دفعہ پیدا کر دیئے کہ تا مسیح کی جان بچ جائے۔اس کے علاوہ مسیح کو غشی کی حالت میں کر دیا کہ ہر ایک کو مردہ معلوم ہوا اور یہو دیوں پراس وقت ہیبت ناک نشان بھونچال وغیرہ کے دکھلا کر بزدلی اور خوف اور عذاب کا اندیشہ طاری کر دیا اور یہ دھڑ کہ اسکی علاوہ تھا کہ سبت کی رات میں لاشیں صیب پر نہ رہ PAL ه : - ملفوظات جلد دوم ص۲۰۸-۲۸۸ : --- را از حقیقت حا - جلد ۱۴ با ص -