کسر صلیب

by Other Authors

Page 384 of 443

کسر صلیب — Page 384

• تم ۳۸ نے بچشم خود دیکھا ہے۔حضرت عیسی کے صلیب پر فوت ہونے سے انکار کیا گیا ہے اور انجیل سے ظاہر ہے کہ یہ نباس بھی ایک بزرگ حواری تھا " لے پھر اسی سلسلہ میں مزید فرماتے ہیں :- " ایک اور بات ملحوظ رکھنے کے لائق ہے کہ یہ نباس کی انجیل میں جو غائبا لندن کے کتب خانہ میں بھی ہوگئی یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا اور نہ صلیب پر جان دی۔اب ہم جگہ یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ گویہ کتاب انجیلوں میں داخل نہیں کی گئی اور بغیر کسی فیصلہ کے تو کر یہی گئی ہے مگر اس میں کیا شک ہے کہ یہ ایک پرانی کتاب ہے اور اسی زمانہ کی ہے جبکہ دوسری انجیلیں لکھی گئیں۔کیا ہمیں اختیار نہیں ہے کہ اس پرانی اور دیر یہ کتاب کو عہدِ قدیم کی ایک تاریخی کتاب سمجھ لیں اور تاریخی کتابوں کے مرتبہ پر رکھ کر اس سے فائدہ اٹھا دیں؟ اور کیا کم سے کم اس کتا کے پڑھنے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ میں علیہ السلام کے صلیب کے وقت تمام لوگ اس بات پر اتفاق نہیں رکھتے تھے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے ۲ یہاں ایک اور امر کا ذکر بھی بہت مناسب معلوم ہوتا ہے۔حضور نے مسیح کے مصلوب ہونے کے بارہ میں اختلاف کا ایک یہ پہلو بھی بیان کیا ہے کہ یہود و نصاری سب کے سب اس امر پرمتفق ہیں۔چنانچہ حضور نے اول اپنی کتاب میں ڈاکٹر بہ نیر کی کتاب کے حوالہ کا یہ ترجمہ درج فرمایا ہے :- یہ غالباً اسی قوم کے لوگ پین میں موجود ہیں جو مذہب موسوی کے پابند ہیں اور ان کے پاس توریت اور دوسری کتابیں بھی ہیں مگر حضرت علیلی کی وفات یعنی مصلوب ہونے کا حال ان لوگوں کو بالکل معلوم نہیں “ سے راس کے بعد حضور فرماتے ہیں :- " ڈاکٹر صاحب کا یہ فقرہ یاد رکھنے کے لائق ہے کیونکہ آج تک بعض نادان عیسائیوں کا به گمان ہے کہ حضرت عیسی کے مصلوب ہونے پر یہود و نصاری کا اتفاق ہے اور اب ڈاکٹر صاحب کے قول سے معلوم ہوا کہ چین کے یہودی اس قول سے اتفاق نہیں رکھتے اور ان کا یہ مذہب نہیں ہے کہ حضرت عیسی سولی پر مر گئے۔" ہے اس حوالہ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہود و نصاری میں سیح کی صلیبی موت پر اتفاق نہیں۔یہ اختلات : كشف العطاء حاشیه مثل جلد ۱۴ : شهر مسیح ہندوستان میں من ۲ - جلد ۱۵ : سے 1 ست بیچن حاشیه در حاشیه ص ۱۶ جلد ۱۰ سے : ست بچن حاشیه در حاشیه ص۱۷۲ جلد ۱۰ : ٥: