کسر صلیب — Page 341
المسار We may اس آیت کو پیش کرنے کے بعد حضور فرماتے ہیں :- ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ بظاہر سیح صلیب پر کھینچا گیا اور اس کے مارنے کا ارادہ کیا گیا مگر یہ محض ایک یہودیوں اور عیسائیوں نے ایسا خیال کر لیا کہ در حقیقت حضرت مسیح علیہ السلام کی جان صلیب پر نکل گئی تھی بلکہ خدا نے ایسے اسباب پیدا کر دیئے جن کی وجہ سے وہ صلیبی موت سے بچ رہا یہ ہے پھر حضور نے اسی دلیل کو مختلف پیرایوں میں بیان فرمایا ہے۔ایک جگہ حضور فرماتے ہیں :۔مہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے دما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه الآية۔وما تتلوه يقينا الآية یعنی یہودیوں نے نہ حضرت مسیح کو در حقیقت قتل کیا۔اور نہ بذریعہ صلیب ہلاک کیا بلکہ ان کو محض ایک شبہ پیدا ہوا کہ گویا حضرت عیسی مسیب پر فوت ہو گئے ہیں اور ان کے پاس وہ دلائل نہیں ہیں جن کی وجہ سے ان کے دل مطمئن ہوسکیں کہ یقینا حضرت مسیح علیہ السلام کی صلیب پر جان نکل گئی تھی " سے حضرت مسیح کے صلیب پر لٹکنے کے بارہ میں فرمایا :- " قرآن شریف نے ہر گنہ اس کا انکار نہیں کیا۔ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن شریف نے تکمیل صلیب کی نفی کی ہے جو لعنت کا موجب ہوتی ہے نفس سلیب پر چڑھائے جانے کی نفی نہیں کی۔اس لئے ماقتلوہ کہا۔اگر یہ مطلب نہ تھا تو پھر ما قتلوہ کہنا فضول ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔یہ سب اس لئے فرمایا کہ صلیب کے ذریعہ قتل نہیں کیا۔پھر ما صلبوه N سے اور صراحت کی اور لکن شبه لهم سے اور واضح کر دیا کہ وہ زندہ ہی تھا یہودیوں نے مردہ سمجھ لیا ہے پھر اسی سلسلہ میں آپ فرماتے ہیں :- خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں حضرت عیسی کی صلیبی موت سے انکار کیا اور فرمایا دما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم اور صلہوہ کے ساتھ آیت میں قتلوه کا لفظ بڑھا دیا تا اس بات پر دلالت کہ سے کہ صرف صلیب پر چڑھایا جانا موجب لعنت نہیں بلکہ شرط یہ ہے کہ صلیب پر چڑھایا بھی جائے اور یہ نیت قتل اسکی ٹانگیں کبھی توڑی ه: مسیح ہندوستان میں ماہ جلد ۱۵: سے:۔سے : ملفوظات جلد چهارم ص۱۲۳ : میسج ہندوستان میں صدا - جلد ۵ نیا