کسر صلیب — Page 338
مسیح علیہ السلام کی صلیبی موت کی تردید پر بہت زیادہ زور دیا ہے تا اس عقیدہ کے غلط ثابت ہو جانے سے موجودہ عیسائیت کی ساری عمارت دھڑام سے زمین پر آکر ہے۔کوئی عقیدہ جتنا اہم ہوتا ہے اسکی تردید بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔ان مذکورہ بالا حوالہ جات میں ہم نے دیکھا ہے کہ صلیبی موت کا عقیدہ عیسائیت کی اصلی روح ہے۔پس اس عقیدہ کی تمدید گویا کل عیسائیت کی تردید اور بالآخر اس کی موت کا باعث ہے پس حضور نے اس اہم اور اساسی عقیدہ کی تردید پر خوب زور دیا ہے اور اس کی تردید کی افادیت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :- اس ایک مسئلہ سے ہی عیسائیت کا ستون ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ جب صلیب پر سیج کی موت ہی نہیں ہوئی اور وہ تین دن کے بعد زندہ ہو کہ آسمان پر گئے ہی نہیں تو الوہیت اور کفارہ کی عمارت تو بیخ و بنیاد سے گیرٹری " پھر اسی سلسلہ میں آپ فرماتے ہیں :- در مسیح ابن مریم کو صلیبی موت سے مارنا یہ ایک ایسا اصل ہے کہ اسی پر مذہب کے تمام اصولوں کفارہ اور تثلیث وغیرہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔اسی غلط ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔۔۔۔صلیبی اعتقاد کے بعد یہ ثابت ہونا کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں مار سے گئے۔بلکہ دوسرے ملکوں میں پھرتے رہے۔یہ ایسا امر ہے کہ یک دفعہ عیسائی عقائد کو دلوں سے اڑاتا ہے اور عیسائیت کی دنیا میں انقلاب عظیم ڈالتا ہے۔کہ کیر مصلیہ کے ضمن میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صلیبی موت کی تردید پر جو زور دیا ہے یہ وہ بے جانہیں ہے بلکہ کسیہ ملیہ کے لئے ایسا کرنالازمی اور ہ بری تھا۔چنانچہ عیسائیوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ چونکہ صلیبی موت عیسائیت کی بنیاد ہے اس وجہ سے لوگوں نے اس کی تردید کی طرف توجہ کی ہے۔ایک مشہور پادری طالب الدین لکھتا ہے :۔ہم نے دیکھ لیا ہے کہ مسیح کا مردوں میں سے جی اٹھنا کس طرح ہر سیخی تعلیم اور ٹکلے کے رگ و ریشے میں گھسا ہوا ہے۔اس کے بغیر سمی مذہب کچھ بھی نہیں رہتا اور اسی واسطے مخالفوں نے اس پتھر کو جو گویا کونے کا سرا ہے، ہلانے کی کوشیش کی ہے" سے پادری مذکور نے اس بات کا اعتراف تو کر لیا ہے کہ صلیبی موت کا عقیدہ عیسائیت کے لئے : ملفوظات جلد اول ۳۳۳ 18< : معجزات مسیح منشاء را از حقیقت حاشیه من روحانی خزائن جلد ۶۱۴ راز