کسر صلیب

by Other Authors

Page 337 of 443

کسر صلیب — Page 337

یعنی مسلمانوں کا حمد لازمی طور پر خود یسوع مسیح پر حملہ ہے۔ان کی کوشش یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ منڈا کا بیٹا نہیں ہے۔وہ صلیب پر نہیں مرا ، مرکر جی نہیں اُٹھا اور یہ کہ وہ خدا کے داہنے کہ ہاتھ پر نہیں بیٹھا۔اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انہوں نے خدا کے ظاہر ہونے کے مسیحی ذریعہ کو ختم کر دیا اور کفارہ کی حقیقت باطل ہوگئی۔مختصر یہ کہ انہوں نے میرے سے مسیحی مذہب کوہی نابود کر کے رکھ دیا کیونکہ یہ ظاہر و باہر ہے کہ اگر سیح خدا کا بیٹا نہیں تھا اور خدا کا بیٹا صیب پر نہیں مرا تو پھر عیسائیت کا وجود ختم ہو جاتا ہے اگر مسلمان اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو پھر مسیحیوں کی حیثیت غلطی خوردہ پوجاریوں سے زیادہ نہیں رہتی ایک اور عیسائی پادری Mr۔E۔W۔Bethmann کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں :- کی وضاحت سے اس عقیدہ "Let us show that the resurrection is one of the vital points of Christianity۔Wihtout the resurrection of Christ, with out a living Christ, we would be the most miserable of all men۔" " یعنی ہمیں چاہیے کہ ہم اس بات کا واضح طور پر اقرار کریں کہ مسیح کا مردوں میں سے جی اُٹھنا عیسائیت کا ایک بہت نازک اور اہم مسئلہ ہے مسیح کے مردوں میں سے جی اُٹھنے کے بغیر اوراہم نیز اس کے زندہ ہونے کے بغیر تو ہماری حالت سب انسانوں سے زیادہ قابل رحم ہوگی " پادری طالب الدین سکھتے ہیں :- " مسیحی نوشتوں کا دعوی ہے کہ مسیح مردوں میں سے بھی اُٹھا ہے اور یہ عقیدہ مسیحی مذہب کی جان ہے جیسا کہ پولوس رسول لکھتا ہے۔اگر مسیح نہیں جی اٹھا تو ہماری منادی بھی بے فائدہ ہے اور تمہارا ایمان بھی بے فائدہ بلکہ ہم خدا کے جھوٹے گواہ ٹھہر سے شول 1 کرنتھیوں ۱۲۰۱۵-۱۵ سے عیسائیوں کے ان مندرجہ بالا حوالہ جات سے یہ بات پوری وضاحت سے ثابت ہو جاتی ہے گریج کی صلیبی موت کا عقیدہ عیسائیت کی جاتی ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے علم کلام کا ایک اصول یہ ہے کہ آپ ہمیشہ عقائد کی جڑ پر وار کرتے ہیں تاکہ جڑ کے گھٹنے کے ساتھ سارے کا سارا درخت خود بخود پیوند ترین ہو جائے۔اس اصول کے مطابق حضور علیہ السلام نے کسی صدی کے عظیم الشان مشن کی تکمیل کی خاطر حضرت : - معجزات مسیح ما : Bridge to Islam p۔287 - : یہ