کسر صلیب — Page 327
2 ۳۲۷ طرح اس عقیدہ کی کوئی بھی علت غائی ثابت نہیں ہوتی۔لہذا یہ اصول ہے کا رس اور لغو ہے اور اس قابل نہیں کہ اسے قبول کیا جائے۔عیسائی کفارہ کے مختلف مقاصد ضرور بیان کرتے ہیں لیکن عند التحقیق وہ ثابت نہیں ہوتے۔اس دلیل کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی دو کتابوں۔کتاب البریہ اورست بچن میں تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔ان دونوں کتابوں کے حوالہ جات کے درج کرنے پر اکتفا کہتا ہوں۔حضور کتاب البریہ میں فرماتے ہیں :- کفارہ اس وجہ سے بھی باطل ہے کہ اسکی یا تو یہ مقصود ہوگاکہ گناہ بالکل سرزد نہ ہوں اور یا یہ مقصود ہوگا کہ ہر ایک قسم کے گناہ خواہ حق اللہکی قسم میں سے اور خواہ حق العباد کی قسم میں سے ہوں۔کفارہ کے ماننے سے ہمیشہ معاف ہوتے رہتے ہیں سوپہلی شقی توصریح البطلان ہے کیونکہ یور سے مردوں اور عورتوں پر نظر ڈال کر دیکھا جاتا ہے کہ وہ کفارہ کے بعد ہر گز گناہ سے بچ نہ سکے اور ہر ایک قسم کے گناہ یورپ کے خواص اور عوام میں موجود ہیں۔بھلا یہ بھی جانے دو نبیوں کے وجود کو دیکھو جن کا ایمان آوروں سے زیادہ مضبوط تھا وہ بھی گناہ سے بچ نہ سکے حواری بھی اس بلا میں گرفتار ہو گئے۔پس اس میں کچھ شک نہیں کہ کفارہ ایسا بند نہیں ٹھہر سکتا کہ جو گناہ کے سیلاب سے روک سکے۔یہی یہ دوسری بات کہ کفارہ پر ایمان لانے والے گناہ کی سزا سے مستثنی رکھے جائیں گے خواہ وہ چوری کریں یا ڈاکہ ماریں۔خون کویں یا بدکاری کی مکروہ حالتوں میں مبتلا رہیں تو خدا ان سے مواخذہ نہیں کرے گا۔یہ خیال بھی سراسر غلط ہے جس سے شریعت کی پاکیزگی سب اُٹھ جاتی ہے اور خدا کے ابدی احکام منسوخ ہو جاتے ہیں بلکہ ست بچن کتاب میں حضور علیہ السّلام نے تحریر فرمایا ہے :- ایک اور مصیبت ان عیسائیوں۔ناقل کو یہ پیش آئی ہے کہ اس مصلوب ریح ناصری - ناقل کی علت غائی عند تحقیق کچھ ثابت نہیں ہوتی اور اس کے صلیب پر کھینچنے کا کوئی ثمرہ ہیپایہ ثبوت نہیں پہنچتا ہے مزید وضاحت کے طور پر فرماتے ہیں :- کیونکہ صورتیں صرف دو ہیں۔دار تو اسے یہ کہ اس مرحوم بیٹے کی مصلوب ہونے کی علت غائی یہ قرار دیں کرتا اپنے ماننے والوں ه : کتاب البرتيه من جلد ۱۳ : له : ست بچن ۱۶۵ - جلد ۱ :