کسر صلیب

by Other Authors

Page 326 of 443

کسر صلیب — Page 326

۳۲۶ نے عیسائیوں پر اتمام محبت کے لیے ایک اور طریق بھی اختیار فرمایا اوروہ یہ کہ آپ نے عیسائیوں کو اس بات کی دعوت دی کہ تم میں سے جو شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ کفارہ پر ایمان لانے سے ایک خاص رھاتی زندگی نصیب ہوتی ہے۔ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔وہ آئے اور آ کر لوگوں کے سامنے اپنے نجات پانے کا ثبوت دے۔آپ نے بڑی تحدی کے ساتھ عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :- میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ سچ ہے کہ حضرت مسیح کے کفارہ پر ایمان لاکر کوئی شخص خاص طور پر تبدیلی پالیتا ہے تو اس کا کیوں ثبوت نہیں دیا گیا۔میں نے بارہا اس بات کو پیش کیا اور اب بھی کرتا ہوں کہ وہ خاص تبدیلی اور وہ خاص پاکیزگی اور وہ خاص نجات اوردہ خاص ایمان اور وہ خاص نظا الہی صرف اسلام ہی کے ذریعہ سے ملتا ہے۔اور ایمانداری کی علامات السلام لانے کے بعد ظاہر ہوتی ہیں۔اگر یہ کفارہ صحیح ہے اور کفارہ کے ذریعہ سے آپ صاحبان کو نجات مل گئی ہے اور حقیقی ایمان حاصل ہوگیا ہے تو پھر اس حقیقی ایمان کی علامات جو حضرت مسیح آپ لکھ گئے ہیں کیوں آپ لوگوں میں پائی نہیں جاتیں۔اور یہ کہنا کہ وہ آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہیں ایک فضول بات ہے۔اگر آپ ایماندار کہلاتے ہیں تو ایمانداروں کی علامات جو آپ کے لئے مقرر کی گئی ہیں آپ لوگوں میں ضرور پائی جانی چاہئیں کیونکہ حضرت مسیح کا فرمودہ باطل نہیں ہو سکتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ دعوت بڑی ہی معقول اور مناسب تھی۔اسے کفارہ کی تاثرات ایسے طور پر ثابت ہو سکتی تقی کرکسی کو انکار کی جرأت نہ ہو سکتی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بار بار بلانے کے باوجود کسی عیسائی کو نجات کا ثبوت دینے اور کفارہ کی پاک تاثیرات دکھانے کی جرأت نہ ہوسکی۔اور اطرح عیسائیوں نے اپنے طرز عمل سے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی کہ کفارہ کے نتیجہ میں نجات ملنے یا گناہوں کے معاف ہونے کا دعویٰ سراسر باطل اور جھوٹ ہے۔چونستون دلیل کفارہ کی تردید میں ایک اور دلیل حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ کفارہ کا اصول ایک بے فائدہ اور بے مقصد اصول ہے۔اس اصول کو جو بھی علت خائی عیسائیت حضرات بیان کرتے ہیں۔یا بیان کر سکتے ہیں، واقعات اور حقائق سے اس کا ثبوت نہ ملتا ہے نہ دیا جا سکتا ہے۔پس اس له -:- جنگ مقدس مثلا - جلد 4 : ¡