کسر صلیب

by Other Authors

Page 27 of 443

کسر صلیب — Page 27

پس منظر گذشتہ باب کے آخر میں ہم دیکھو آئے ہیں کہ تیرہویں صدی کے آخر پر اسلام انتہائی غربت کی حالت میں تھا اس کسی میرسی نیز علمائے اسلام کی بے خبری اور غفلت کو دیکھ کر عیسائی پادریوں نے اسلام اور اہل اسلام کو اپنے نرغہ میں لے لیا تھا۔لاکھوں مسلمان ، اسلام کی روشن شاہراہ کو چھوڑ کر عیسائیت کے تاریک غار میں دھکیلے جا چکے تھے اور اس پر بس نہیں بلکہ عیسائی مناد على الاعلان اس عزم کا اظہار بھی کر رہے تھے کہ ہم عنقریب خاکش بدین، مکہ مکر مرا در مدینه منوره پر بھی عیسائیت کا پرچم لہرا دیں گے مشہور عیسائی مزار جان ہنری بیرونز نے مسیحی ترقی کا جائزہ لینے کے لئے انہی دنوں ساری دنیا کا دورہ کیا۔اس دورہ کے تاثرات بیان کرتے ہوئے دہ کہتا ہے :۔اب میں اسلامی ممالک میں عیسائیت کی روز افزوں ترقی کا ذکر کرتا ہوں۔اس ترقی کے نتیجہ میں صلیب کی چپکا نہ آج ایک طرف لبنان میں ضوفگن ہے تو دوسری طرف فارس کے پہاڑوں کی چوٹیاں اور باسفورس کا پانی اس کی چمکار سے جنگ جگمگ کر رہا ہے۔یہ صورت حال پیش خیمہ ہے اس آنے والے انقلاب کا حجب قاہرہ ، دمشق اور طہران کے شہر خداوند یسوع مسیح کے خدام سے آباد نظر آئیں گئے۔حتی کہ صلیب کی چہکار صحرائے عر کیسے سکوت کو چیرتی ہوئی دہاں یعنی مجاز ہیں۔نائل بھی پہنچے گی۔اس وقت خداد ند یسوع اپنے شاگردوں کے ذریعہ مکہ کے مشہر : خاص کعبہ کے حرم میں داخل ہوگا اور بانی خروہاں اس حق و صداقت کی منادی کی جائے گی کہ ابدی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدائے واحد اور یسوع مسیح کو جانیں جسے تو نے بھیجا ہے۔لے الفرض عیسائیت کی اس روز افزوں ترقی کو دیکھ کہ اور بلند بانگ دعاوی سنگر اہل اسلام ایک عاجزا اور لاچار انسان کی طرح چیکے بیٹھے تھے کسی میں اتنی بہت اور اتنی سکت نہ تھی کہ وه مرد میدان بن کر باہر نکلتا اور عیسائیت کا مقابلہ کرتا ہم یہ بھی دیکھ آئے ہیں کہ اس دور میں مسلمان دل سے اس بات کے آرزومند اور دعا گو تھے کہ خدا کی طرف سے کوئی پہلوان پیدا ہو جو ه : - بیروز لیکچر زمت :