کسر صلیب — Page 292
۲۹۲ " اس طریق میں انصاف اور رحم دونوں کا خون ہے کیوں کہ گناہگار کے عوض میں بیگناہ کو پکڑ نا خلاف انصاف ہے اور نیز بیٹے کو اس طرح نا حتی سخت دلی سے قتل کرنا خلاف رحم ہے۔اور اس حرکت سے خاک فائدہ نہیں " سے اسی سلسلہ میں حضور فرماتے ہیں :- عیسائی جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ اور بھی عجیب ہے۔وہ خدا تعالی کو جیم تو مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ رحیم ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ رحم بلا مبادلہ نہیں کرسکتا۔جب تک بیٹے کو پھانسی نہ دے لے اس کا رحم کچھ بھی نہیں کر سکتا۔تعجب اور مشکلات بڑھ جاتی ہیں جب رحم اس عقیدہ کے مختلف پہلوؤں پر نظر کی جاتی ہے اور پھر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے اکلوتے بیٹے کو پھانسی بھی دیا لیکن یہ نسخہ دگر پھر بھی خطا ہی گیا سب سے پہلے تو یہ کہ پیسہ اسی وقت یاد آیا جب بہت سی مخلوق گناہ کی موت سے تباہ ہو چکی اور ان پر کوئی رقم نہ ہو سکا کیونکہ پہلے کوئی بیٹا بھا نسی یہ نہ پڑھا ہے کفارہ کا اصول خدا تعالٰی کی بے رحمی کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ امرینی مجرموں کی بجائے اپنے بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار حالانکہ کوئی ظالم سے ظالم باپ بھی ایسا نہیں کرتا۔کہ اس کا نو کر کوئی غلطی کر سے تو وہ اپنے بیٹے کو پیٹنا شروع کرد سے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کرے کہ سولی پر چڑھا کہ اس کو ملعون بنیاد ہے۔ایسا کہ ناریم سے بھی بعید ہے اور انجیلی تعلیم کے بھی خلاف ہے۔کیونکہ رکھا ہے :۔" تم میں سے ایسا کون سا آدمی ہے کہ اگر اس کا بیٹا اسی روٹی مانگے تو وہ اسے پتھر دے یا اگر پچھلی مانگے تو اسے سانپ دے پس جبکہ تم مج سے ہو کہ اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینی جانتے ہو تو تمہارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا یا سکھے لیکن اسکی بر خلاف خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے سے ظلم وستم کا جو سلوک روا رکھا وہ سب پر ظاہر ہے۔پس ثابت ہوا کہ کفارہ کے عقیدہ کا رحم سے کچھ بھی تعلق نہیں یہ تو ظلم وستم کی ایک گھناؤنی صورت ہے اس کو قیام رحم کا ذریعہ قرار دیا تو پر سے درجے کی حماقت ہے۔نہ ہی رحم کی بنیاد پر اس اصول کو پیش کیا جاسکتا ہے پس کفارہ باطل ثابت ہوتا ہے۔اٹھار تقوی دلیل ین کفارہ کی تردید میں اٹھارہ ہوں دلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ یہ بات سخت نے لیکچری پور مدا - ر ج جلد ۲۰ سه :- ملفوظات جلد هفتم منها به یہ :- متی