کسر صلیب

by Other Authors

Page 288 of 443

کسر صلیب — Page 288

۲۸۸ حوالہ جات سے ہوتا ہے۔حضور اس دلیل کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- (H) "خُدا کی صفات عدل و انصاف سے یہ بہت بعید ہے کہ گناہ کوئی کمر سے اور سزا کسی دوسرے کو دی جائے ملے یاکا (۳) " اگر میزان عدل کے لحاظ سے اس کو جانچا جائے تو صریح یہ بات ظلم کی صورت میں ہے کہ زید کا گناہ بلکہ پر ڈال دیا جائے۔انسانی کا نفس اس بات کو ہر گنہ پسند نہیں کرتا کہ ایک مجرم کو چھوڑ کر اس مجرم کی سزا غیر محرم کو دی جائے" سے کو یہ بھی کب میں نہیں آتا کہ مزید کوئی گنہ کرے اور بحر کا اسکی عوض سولی پر کھینچا جائے۔یہ عدل ہے یا رحم کوئی عیسائی ہم کو بتلاد سے ہم اسکی اقراری ہیں کہ خدا کے بندوں کی بھلائی کے لئے جان دنیا یا جان دینے کے لئے مستعد ہوتا ایک اعلی اخلاقی حالت ہے لیکن سخت حماقت ہوگی ہ خود کشی کی بے جا حرکت کو اس مد میں داخل کیا جائے۔ایسی خودکشی توسخت حرام اور نادانوں اور بے صبروں کا کام ہے “ کے (M) هذه عقيدتهم ولكن من نقدها بعين المعقول ووضعها على معيار التحقيقات سلكها مسلك الهذيانات - وان تعجب نما تجدا عجب من قولهم هذا لا يعملون ان العدل اهم و اوجب من الرحيم فمن ترك المذنب واخذا المعصوم ففعل فعلاً ما بقى منه عدل ولا رحم وما يفعل مثل ذلك الا الذى هو اصل من المجانين" ٣ ترجمہ :۔یہ کفارہ ان عیسائیوں کا عقیدہ ہے لیکن جو سے غور کرے گا اور بعض بھی اس پر عقلمندی کی نگاہ تحقیقات کے معیار سے اس کو جانچے گاوہ اس کو ایک لغو کام قرار دے گا۔اگر تو اس بات پر تعجب کرتا ہے تو عیسائیوں کا یہ قول اور یہ عقیدہ اسے بھی زیادہ قابل تعجب ہے۔یہ نہیں جانتے کہ خدائے رحیم کو یہ بات زیادہ ے :- لیکچر سیالکوٹ ۳ جلد ۲۰ : + میگه : سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب مت ، جلد ۲۱۳ ۳- و نور القرآن با حاشیه مش - جلد ؟ شه : کرامات الصادقین نت - جلد :