کسر صلیب — Page 180
۱۸۰ فرمایا ہے۔کانا یا کلان الظام یعنی حضرت مسیح ایران کی والدہ کھانا کھایا کر تے تھے۔اس آیت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوہیت مسیح کی تردید میں استدلال فرمایا ہے اور اپنی کتابوں میں تحریر فرمایا ہے کہ حضرت مسیح اور اُن کی والدہ کا کھانا کھانا ان کے خدا نہ ہونے کی دلیل ہے کیونکہ :۔ا جو کھانا کھائے وہ محتاج ہو گیا۔اور خدا ہر قسم کی احتیاج سے بالا ہے۔کھانا وہی کھاتا ہے جس کا بدن تحلیل پذیر ہو اور خُدا اس سے بلند تر ہے کہ اس میں تحلیل ہونے کی صفت ہو۔۲ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ دسیح اور ان کی والدہ ، کھانا کھایا کہ تے تھے گویا اب نہیں کھاتے گویا اب وہ نہ ندہ نہیں ہیں تبھی کھانا نہیں کھاتے۔پس موت بھی الوہیت مسیح کی تردید کا ثبوت ہے۔یادر ہے کہ حضرت مسیح علیہ اسلام کا کھانا کھانا دعوی بلا دلیل نہیں ہے۔بلکہ اناجیل میں صاف طور پر ان کے کھانا کھانے کا ذکر ملتا ہے۔اور کوئی مسیحی اس سے انکار نہیں کرتا۔پس یہ ایک واقعاتی اور سائنسی دلیل ہے جس سے الوہیت مسیح کی تردید ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دلیل کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- تیسری دلیل اس کی ریعنی حضرت مسیح کی۔ناقل ) عبودیت پر یہ ہے کہ جب وہ اور اس کی ماں نہ ندہ تھے دونوں روٹی کھایا کرتے تھے۔اور خدا روٹی کھانے سے پاک ہے یعنی روٹی بدل ما تململ ہوتی ہے اور خدا اس سے بلند تر ہے کہ اس میں تحلیل پانے کی صفت ہو مگر مسیح روٹی کھاتا رہتا تھا۔پس اگر وہ خدا ہے تو کیا خدا کا وجود بھی تحلیل پاتا رہتا ہے ؟ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ طبعی تحقیقات کی رو سے انسان کا بدن تین برس تک بالکل بدل جاتا ہے اور پہلے اجزاء تحلیل ہو کر دوسرے اجزاء ان کے قائمقام پیدا ہو جاتے ہیں۔مگر ہند میں یہ نقص ہرگز نہیں۔یہ دلیل ہے جس کو خدا تعالیٰ حضرت عیسی کے انسان ہونے پر لایا ہے یا اے نیز فرمایا : ایک دلیل یہ پیش کی ہے کانا یا کلان الطعام یعنی وہ دونوں حضرت مسیح اور آپ کی والدہ صدیقہ کھانا کھایا کر تے تھے۔اب آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کیوں شده در ضمیمه برا این احمدیہ حصہ بنجمه منه ر دهانی خزائن جلد ۲۱ به ر ص