کسر صلیب

by Other Authors

Page 177 of 443

کسر صلیب — Page 177

166 خدا تعالیٰ کی رسالتوں کو لے کہ خدا تعالیٰ کے بیٹے بھی آیا کرتے ہیں۔اس وقت تک حضرت مسیح کا خدا تعالیٰ کا حقیقی بیٹا ہونا ثابت نہیں ہو سکتا " مل دلیل استقرائی کی وضاحت کے ضمن میں حضور نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ کبھی خدا اپنے بیٹے بھی بھیجا کرتا ہے تو اول تو اس کی کوئی دلیل ہونی چاہیے اور پھر عادت کے ثابت کرنے کے لئے نے ایک نہیں بلکہ کئی بیٹے ایسے ہونے چاہئیں جو یکے بعد دیگر سے دنیا کی اصلاح کے لئے آئیں۔آپ نے فرمایا : - " خُدا کا کوئی فعل اس کی قدیم عادت سے مخالف نہیں۔اور عادت کثرت اور کلیت کو چاہتی ہے۔پس اگر در حقیقت بیٹے کو بھیجنا خدا کی عادت میں داخل ہے تو خدا کے بہت سے بیٹے چاہئیں۔تا عادت کا مفہوم جو کثرت کو چاہتا ہے۔ثابت ہو اور تا بعض بیٹے جنات کے لئے مصلوب ہوں۔اور بعض انسانوں کے لئے۔اور بعض ان مخلوقات کے لئے جود وسرسے اجرام میں آباد ہیں۔یہ اعتراض بھی ایسا تھا کہ ایک لحظہ کے لئے بھی اس میں غور کرنا فی الفور عیسائیت کی تاریخی سے انسان کو چھوڑا دیتا ہے ہے جب عیسائیوں کے سامنے یہ دلیل استقرائی پیش کی مباقی ہے اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ تم کوئی ایک مثال تو پیش کرو کہ کبھی خدا نے اپنے بیٹے کو بھی دنیا میں بھیجا ہو۔تو وہ خود حضرت مسیح علیہ السلام کو پیش کر دیا کرتے ہیں کہ دیکھو حضرت مسیح خدا کے بیٹے تھے۔یہ مثال اس وجہ سے درست نہیں کہ خود حضرت مسیح کی ایفیت محل نظر ہے۔پس جو بات خود قابل ثبوت ہو اس کو کسی اور امر کی دلیل کے طور پر کیسے پیش کیا جا سکتا ہے۔بلکہ یہاں تو یہ صورت ہے کہ ابنیت مسیح ہی کے ثبوت کا سوال ہے۔کیا کسی امر کے ثبوت کے لئے اسی امر کو بطور ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے۔ہر گز نہیں یہ تو مصادره علی المطلوب ہے جوفن مناظرہ میں باطل مانا گیا ہے۔پس ابنیت مسیح کے دعوی کو ابنیت مسیح کی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی عیسائیوں کے اس عذر کا جواب تحریر فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں :- اگر یہ کہو کہ آگے تو نہیں مگر اب تو آگیا ہے تو فن مناظرہ میں اس کا نام مصادرة على المطلوب سے یعنی جو امر متنازعہ فیہ ہے اسی کو بطور دلیل پیش کر دیا جائے مطلب یہ یہ ہے کہ زیر بحث تو یہی امر ہے کہ حضرت مسیح اس سلسلہ متصلہ مرفوعہ کو توڑ کر کیونکر ه: جنگ مقدس ص ۲ روحانی خزائن جلده : :: کتاب البرية - روحانی خزائن جلد ۱۳ : من