کسر صلیب — Page 174
۱۷۴ حضرت مسیح کا یہ بیان خُدا ہونے سے واضح انکار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں " جب مسیح کو یہودیوں نے اس کے کفر کے بدلے میں کہ یہ ابن اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے پتھراؤ کرنا چاہا تو اس نے انہیں صاف کہا کہ کیا تمہاری شریعیت میں یہ نہیں لکھا کہ تم خدا ہو۔اب ایک دانشمند خوب سوچ سکتا ہے کہ اس الزام کے وقت تو چاہیئے تھا کہ مسیح اپنی پوری بریت کرتے۔اور اپنی خدائی کے نشان دکھا کہ انہیں ملزم کہ تھے اور اس حالت میں ک ان پر کفر کا الزام کی ا الزام لگایا گیا تھا تو ان کا فرض ہونا چاہیئے تھا کہ اگر وہ فی الحقیقت خدایا خدا کے بیٹے ہی تھے تو یہ جواب دیتے کہ یہ کفر نہیں بلکہ میں واقعی طور پر خدا کا بیٹا ہوں۔اور میرے پاس اس کے ثبوت کے لئے تمہاری ہی کتابوں میں فلاں فلاں موقع پر صاف لکھنا ہے کہ میں قادر مطلق عالم الغیب خدا ہوں۔اور لاؤ میں دکھا دوں۔اور پھر اپنی قدرتوں عالم ال طاقتوں سے ان کو نشانات خدائی بھی دکھا دیتے اور وہ کام جو انہوں نے خدائی سے پہلے دکھائے تھے ان کی فہرست الگ دے دیتے۔پھر ایسے بین ثبوت کے بعد کسی یہودی فقیہ یا فریسی کی طاقت تھی کہ انکار کرتا۔وہ تو ایسے خدا کو دیکھ کہ سجدہ کرتے مگر بر خلاف اس کے آپ نے کیا تو یہ کیا کہ کہ دیا کہ تمہیں خدا لکھا ہے۔اب خدا ترس دل لے کر غور کرد که یہ اپنی خدائی کا ثبوت دیا یا ابطال کیا ؟ " حضرت مسیح کے توحید پر قائم ہونے اور توحید کا اعلان کرنے پر انجیل کی مندرجہ ذیل دو آیات کی گواہی ہی کافی ہے۔لکھا ہے :- ا - "۔۔۔۔۔ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ نتیجہ خدائے واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جیسے تو نے بھیجا ہے جائیں " سے۔" اسے اسرائیل شن ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے " سے پس ثابت ہوا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ہمیشہ توحید کی منادی کی ہے۔ہمارا استدلال یہ ہے کہ اگر مسیح خود خدا تھے اور تثلیث کی ایک کڑی ان کے وجود سے پوری ہوتی تھی تو انہوں نے خدائے واحد کا پر چار کیوں کیا ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس دلیل کو ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں :- حضرت مسیح نے کسی جگہ تثلیث کی تعلیم نہیں دی۔اور وہ جب تک زندہ رہے ے: ملفوظات جلد سوم ما ۱۳ ہے 止 : یوحنا : ۱۵۳ مرقس : :٥٣ : :-