کسر صلیب — Page 164
۱۶۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں دو یہ وہ ناک کے نظارہ کہ ایسے لوگ دنیا میں چالیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ پائے جاتے ہوئے جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا سمجھ رکھا ہے۔میرے ولے پر اس قدر صدمہ پہنچا تا رہا ہے کہ میں گمارنے نہیں کر سکتا کہ مجھ پر میرے تمام زندگی میں اس سے بڑھ کر کوٹھے غم گہرا ہو۔بلکہ اگر ہم غم سے مرنا میرے لئے ممکون ہوتا تو یہ غم مجھے ہلاک کر دیتا کہ کیوں یہ لوگئے خدائے واحد لا شریک کو چھوڑ کر ایک عاجز انسان کی پرستش کر رہے ہیں اور کیوں یہ لوگ اسے تجھے پر ایمان نہیں لاتے جو کچھ ہدایت اور راہِ راستے لے کر دنیا میں آیا۔ہر ایک وقتے مجھے یہ اندیشہ رہا ہے کہ اسے غم کے صدماتھے سے کیوں ہلا کرتے نہ ہو جاؤ۔۔۔اور میرا اس درد سے یہ حالت ہے کہ اگر دوسرے لوگ بہشتے چاہتے ہیں تو میرا بہشتے یہی ہے کہ میں اپنے زندگی میں اس شرک سے انسانوں کو رہائھے پاتے اور خدا کا جلال ظاہر ہوتے دیکھ لو اور میری روح ہر وقت دُعا کہ تجھے ہے کہ اسے خدا ! اگر میں تیری طرف سے ہوں اور اگر تیرے فضل کا سایہ میرے ساتھ ہے تو مجھے یہ درخے دکھلا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے سر سے یہ تہمت اُٹھا دی جائے کہ گویا نعوذ باللہ انہوں نے خدائی کا دعو عطے کیا۔ایک زمانہ گذر گیا کہ میر ے پنجوقت کچھ پیچھے دعائیں ہیں کہ خُدا سے ارضے لوگوں کو آنکھ بخشے اور وہ اس کی وحدانیت پر ایمان لاویں اور اس کے رسول کو شناخت کرلیں اور شیشے کے اعتقاد سے توبہ کریں کالے ! : تبلیغ رسالت جلد بشتم طلا