کسر صلیب — Page 125
۱۲۵ خدا تعالیٰ کی ہستی ہر مذہب کا مرکزی نقطہ ہے۔عیسائی لوگ جس لفظ سے اپنے تصور الوہیت کو پیش کرتے ہیں وہ تثلیث کا لفظ ہے۔پس اس لحاظ سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تثلیث کا عقیدہ عیسائی مذہب کے اصل الاصول میں سے ہے۔پادری ڈبلیو ٹامس لکھتے ہیں :۔تشکیت کا مسئلہ مذہب عیسوی کی بنیاد ہے " ہے ظاہر ہے کہ جب یہ مسئلہ اس قدر اہم اور اساسی اہمیت کا حامل ہے تو اس مذہب کی کتاب اور علمبرداروں کی طرف سے اس کی پوری پوری وضاحت ہونی چاہیئے تاکہ دنیا کے سب لوگ اس مسئلہ کی اصل حقیقت سے آگہی حاصل کر سکیں۔لیکن یہ بڑی ہی عجیب بات ہے کہ تثلیث کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس کی پوری وضاحت نہ کی جاتی ہے اور نہ کی جا سکتی ہے۔یہ بات صرف ہم نہیں کہتے بلکہ خود محقق عیسائی بھی اس بات کا برملا اعتراف کرتے ہیں۔کہ تثلیث کا مسئلہ انسانی سمجھ میں نہیں آسکتا۔جب مسید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ڈپٹی عبداللہ آتھم کا امرتسر میں مباحثہ ہوا تو ایک روز ڈپٹی صاحب موصوف کی جگہ پر ڈاکٹر سہنری مارٹن کلارک پیش ہوئے۔انہوں نے اپنے بیان میں اس بارہ میں جو اعتراف کیا وہ درج ذیل ہے۔تثلیث کے مسئلہ کے بارہ میں لکھتے ہیں ؟ ہ کثرت فی الوحدت ایک ایسا مسئلہ ہے کہ نہ اس کے سمجھنے والا پیدا ہوا نہ ہوگا ہے پادری ڈبلیو ٹامس لکھتے ہیں :- و خلقت کے استدلال اور عقلی دلائل اس میں یعنی مسئلہ تثلیث میں نہیں چل سکتے ہے پادری سی جی فانڈر لکھتے ہیں : " تثلیث ایک راز بستہ ہے کہ جس کی بابت ہم نہیں جانتے کہ کیسے ہے؟ ہے پادری عمادالدین لکھتے ہیں :- تسلیت جو اسرار الہی میں سے ایک سر ہے۔اس طرح مذکورہ ہے کہ خدا ایک ہے له : تشريح التثليث ص : -:-:- جنگ مقدس من ریحانی خزائن جلد : گے: میزان الحق صلا تا مثلا فصل سوم :