کسر صلیب

by Other Authors

Page 95 of 443

کسر صلیب — Page 95

۹۵ النزامی جوابات دیتے ہوئے اور بائیل کی عبارات پیش کرتے ہوئے اگرچہ بظاہر بعض سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں لیکن آپ نے اس بات کی بھی وضاحت فرما دی ہے کہ میرا اپنا یہ عقیدہ نہیں ہے بلکہ میں تو حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا ایک سچا نبی خیال کرتا ہوں۔یہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے۔یہ سب عیسائی بیانات کے مطابق ہے اور انس یسوع کے بارہ میں ہے جس کا نقشہ بائیبل پیش کرتی ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح کی بے ادینی کے الزام کی تردید کرتے ہوئے اصل موقف اور اس کی وجہ بایں الفاظ بیان فرمائی ہے :- ہم نے اپنی کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسی ابن مریم جو نبی تھا جس کا ذکر قرآن میں ہے وہ ہمارے درشت خطابات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے بر ایمر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے " ہے اسی سلسلہ میں فرماتے ہیں : " حضرت مسیح کے حق میں کوئی بے ادبی کا کلمہ میرے منہ سے نہیں نکلا۔یہ سب مخالفوں کا افتراء ہے۔ہاں چونکہ در حقیقت کوئی ایسا یسوع مسیح نہیں گزرا جنی خدائی کا دعوی کیا ہو اور آنے والے نبی خاتم الانبیاء کو جھوٹا قرار دیا ہوا اور حضرت موسیٰ کو ڈاکو کہا ہو اس لئے میں نے فرض محال کے طور پر اس کی نسبت ضرورہ بیان کیا ہے کہ ایسانیخ دیکھی یہ کلمات ہوں راستباز نہیں ٹھہر سکتا لیکن ہمارا اسیح ابن مریم جب جو اپنے تئیں بندہ اور رسول کہلاتا ہے اور خاتم الانبیاء کا مصدق ہے اس پر ہم ایمان لاتے ہیں " نیز مسند رایا : ہمارے قلم سے حضرت علی علی السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان کے نکلا ہے وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں " سے له: ضروری اعلان مندرہ نور القرآن نمبر ۲ (جبله (۹): ه: - تریاق القلوب حاشیه حث جلد ۱۵: س : مقدمه چشمه سیحی صن۔روحانی خزائن جلد ۲۰ :