کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 7 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 7

حسرت موہانی۔مولانا شفیع داؤدی۔ڈاکٹر ضیاء الدین۔ایچ۔ایس سہروردی۔چودھری عبدالمتین - سرعبداللہ ہارون و غیر ہم ایسی ( متعدد ہندوستان کی ) مقتدر و نامور ہستیاں تھیں۔جب یہ کمیٹی انتھک جدوجہد کے بعد مسلمانان کشمیر کے حقوق منوانے میں کامیاب ہوگئی۔جب اس کی پُر خلوص سرگرمیاں کے سامنے ریاستی بربریت نے گھٹنے ٹیک دیے اور لیلائے کامرانی چند قدم پر مجاہدین حریت کے انتظار میں بے قرار ومنتظر صاف دکھائی دینے لگ گئی تو عین وقت پر غیر مسلم حکمران کے خریدے ہوئے کچھ پیشہ ور سیاسی شاطر مذہبی جیسے پہن کر اس میں آن کو دے اور فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے کر کشمیر ایجی ٹیشن کو اپنے ہاتھ میں لینے کا ہر بونگ مچا دیا۔یعنی وہی لوگ جو جواہر لعل نہرو۔مسٹر گاندھی سبھاش چندر بوس اور سردار پٹیل کو اپنا سیاسی پیر مانتے کبھی ذرا نہ شرمائے وہی ایک کلمہ گو کی قیادت پر چراغ پا ہو گئے۔عوام نے اُن لوگوں کی معاندانہ سرگرمیوں کو دیکھ کر بار بار کہا۔”آپ ہمارے نمائندے نہیں ہیں ہمیں آپ کی راہنمائی کی ضرورت نہیں ہے“۔شیخ محمد عبداللہ پورے زور سے چلائے:۔حکومت مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنا چاہتی ہے چند مسلمان لیڈ ر حکومت کے دام فریب میں آکر مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کے شیرازے کو بکھیر کر اپنی ذاتی اغراض کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور سنی۔شیعہ۔اہلحدیث اور احمدی سوال اٹھارہے ہیں۔۔چودھری غلام عباس بہتیرا گڑ ھے اور بار بار پکارے:۔وو مجھے یہ دیکھ کر کہ مسلمانان کشمیر کے درمیان تفرقہ پردازی کی وسیع خلیج حائل ہوگئی ہے از حد صدمہ ہوا ہے اس وقت مسلمانوں پر دو را بتلاء و مصیبت ہے اور رہبران قوم کی ذراسی لغزش بھی تباہی کا حکم رکھے گی۔موجودہ سوال قوم کا من حیث القوم سوال ہے اور نہ حکومت ہی نے گولیاں چلاتے 11