کشمیر کی کہانی — Page 46
ویو (FAIR VIEW) میں فروکش ہوا۔بیشتر زعماء شملہ پہنچ چکے تھے۔انہیں پہلی فرصت میں کانفرنس کے وقت اور جائے انعقاد سے مطلع کیا گیا۔اور 25- جولائی 1931ء کو نماز ظہر کے بعد (فیئر ویو ) ہی میں اجلاس شروع ہوا۔جس میں امام جماعت احمدیہ (جن کا ذکر اس سے قبل صرف اس لیے کشمیری مسلمانوں کے ایک مونس و غم گسار بزرگ کے طور پر ہی کرتا رہا ہوں کہ اُس وقت تک آپ کی تمام مساعی انفرادی اور ذاتی حیثیت سے تھیں اور ویسے بھی آپ کی حتی المقدور یہی کوشش رہی کہ کسی قسم کے نام و نمود سے کاملاً بے پرواہ اور بے نیاز ہوکر مظلومین کی امداد کی جائے )۔ڈاکٹر سر محمد اقبال۔نواب سر ذوالفقار علی خاں۔خواجہ حسن نظامی۔نواب گنج پورہ۔سید محسن شاہ۔خان بہادر شیخ رحیم بخش۔مولانا اسماعیل غزنوی۔مولانا عبد الرحیم درد - مولانا نور الحق (مالک انگریزی روز نامہ آؤٹ لگ ) سید حبیب شاہ (مالک روز نامہ سیاست اور نمائندگانِ ریاست و سرحد شامل ہوئے۔مولوی عبدالرحیم ایم اے۔ایل ایل بی نے صوبہ کشمیر کی اور جناب اللہ رکھا ساغر نے صوبہ جموں کی اور صاحبزادہ سرعبد القیوم کے بھائی صاحبزادہ عبد اللطیف نے صوبہ سرحد کی نمائندگی گی۔(راقم الحروف نے اس کانفرنس کی روئیداد کی اخبارات میں رپورٹنگ کا فریضہ ادا کیا ) آل الڈر یا کشمیر کمیٹی ریاست کے تازہ حالات بیان کرنے کے بعد بڑی تفصیل کے ساتھ تمام امور پر بحث کی گئی اور فیصلہ ہوا کہ ایک آل انڈیا کشمیر کمیٹی بنائی جائے۔جو اس سارے کام کو اپنے ذمہ لیکر پایہ تکمیل تک پہنچائے۔اور اس وقت یہ مہم جاری رہے جب تک ریاست کے باشندوں کو اُن کے جائز حقوق نہ حاصل ہو جائیں تمام شرکاء مجلس نے جو ریاست کے ساتھ تعلق نہ رکھتے تھے۔یہ اقرار کیا کہ وہ بھی اس کمیٹی میں شمولیت اختیار کریں گے۔بلکہ وہ اُسی 50 50