کشمیر کی کہانی — Page 45
دشمنان حق نے کرلی سلب آزادی تری اپنی نادانی بھی دیکھ اور ان کی عیاری بھی دیکھ فتنہ ساماں بن رہا ہے تو جنوبی ہند میں اپنے اختر کی یہاں آکر سیہ کاری بھی دیکھ ( مرتاض) آل انڈیا کشمیر کمیٹی صد شکر کہ وہ دردمند بزرگ جو ہیں سال سے مسلسل کشمیریوں کو غلامی سے نجات دلانے کے لئے کوشاں تھا۔اب اس کی مساعی جمیلہ کا ریاست کے اندر اور بیرونی ریاست جگہ جگہ چرچا ہونے لگا تھا۔اس تحریک پر جمع ہو کر زعماء ہند نے شملہ کے مقام پر ایک کانفرنس میں آئندہ طریق کار کے متعلق فیصلے کرنا تھے اس کا نفرنس میں شمولیت کے جموں کشمیر اور صوبہ سرحد کے نمائندے کا نفرنس سے پہلے ہی اس بزرگ کے پاس پہنچ گئے۔تا کہ انہیں تازہ ترین صورت حالات سے باخبر کرسکیں۔چنانچہ وہ ان نمائندگان و خدام سمیت شملہ روانہ ہو گئے۔( راقم الحروف بھی اس خوش بخت قافلہ میں شامل تھا)۔یہ قافلہ ۲۴ جولائی ۱۹۳۱ ء کو حکومت ہند کے گرمائی دارالحکومت میں وارد ہوا۔اور نواب سرذوالفقار علی خاں آف مالیر کوٹلہ کی استدعا پر اُن کی کوٹھی موسومہ بہ فیئر 49