کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 43 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 43

توڑ دے زنداں کا دراور سانس حریت کا لے کاٹ دے تیغ محبت سے عداوت کا نہال ساحروں کی شکل میں گر سامنے آئیں عنید پرچم خاقانی , مزید تعلیم کے پیش نظر موسوی سونٹا چلا ٹکڑے ہو تا دام جہال کر پیوند خاک پھر بٹھا عالم پر اپنی چار سو مردانہ دھاک مسلمانان کشمیر کی انفرادی امداد تو ہو ہی رہی تھی۔بعض اخبارات اس میں بہت سرگرمی سے حصہ لے رہے تھے۔لیکن ان تمام کوششوں کو یکجا اور منظم کرنے کی ضرورت تھی۔بزرگ محترم نے پے در پے مضامین لکھے۔ان کا خاطر خواہ اثر ہوا اور مختلف مقامات پر ”یوم کشمیر“ منانے کی تحریک ہوئی۔پشاور والوں نے ۱۰ جولائی تاریخ مقرر کی۔کانپور والوں نے ۲۸ جولائی اور لاہور والوں نے ۲۴ / جولائی اس غرض کے لئے مقرر کر دی۔اس پر اس بزرگ نے ایک زور دار اپیل شائع کی۔جس میں یہ واضح کیا کہ اس قسم کے اختلاف کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسی کوئی تحریک بھی کامیاب نہ ہو سکے گی۔اور مظاہروں سے جو حقیقی فائدہ مقصود ہوتا ہے۔محرکین اس سے محروم رہ جائیں گے۔اور آپس میں شقاق بھی پیدا ہوگا۔پھر اس دقت کا حل یہ تجویز کیا گیا کہ وہ تمام اشخاص جو یا تو نسلاً کشمیری ہیں یا مسئلہ کشمیر سے ہمدردی رکھتے ہیں۔47