کشمیر کی کہانی — Page 32
ئے آزادی کی ضرورت تھی۔جس سے وہ صدیوں سے محروم چلے آ رہے تھے۔۱۹۳۱ء کی صبح طلوع ہونے تک کشمیر کے لوگوں میں زندگی اور بیداری کے آثار تو نمایاں نظر آنے شروع ہو چکے تھے۔لیکن ابھی تک نہ اُن کی کوئی مرکزی تنظیم تھی۔اور نہ انہیں ایسے وسائل ہی میسر تھے۔کہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے لگاتار جد و جہد کر سکیں۔اس لئے از حد ضروری تھا کہ وہ ایک مرکزی تنظیم کی لڑی میں منسلک ہوں۔ملک بھر میں جس کی شاخیں ہوں۔اپنا پریس اور پلیٹ فارم ہو۔لیکن اہل کشمیر ان تمام اہم نعمتوں اور وسیلوں سے محروم تھے۔اور ریاست اپنے اندرونی معاملات میں خود مختار ہونے کے باوجود انگریزی راج کے ماتحت تھی۔ہندوستان پر انگریز حکمران تھا۔اگر کشمیر کے حکمران پر کوئی دباؤ پڑ سکتا تھا تو صرف انگریز کی طرف سے جو ایسا کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔مگر قدرت تو جیسے فیصلہ کر چکی تھی کہ کشمیر میں اب انقلاب آکر رہے گا۔اور آئے گا اس سال کے اندر اندر۔چنانچہ اس کے کرم سے ایسے غیر معمولی واقعات ظہور پذیر ہونے شروع ہوئے جو ہر گز کسی سوچی سبھی سکیم کا حصہ نہ تھے۔جابر حاکم کے ظالم افسروں نے مختلف مواقع پر فرعونیت کے مظاہرے کئے اور یہی چیز ڈوگرہ راج کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کا باعث بن گئی۔اسلام قبول کرنے کی پاداش میں صوبہ جموں میں تحصیل ”اور ہم پور“ کا ایک بڑا زمیندار حلقہ بگوش اسلام ہوا۔وہاں کے تحصیل دار نے کاغذات مال سے اس کا نام خارج کر دیا اور اس کی تمام جائداد و املاک پر اس کے بھائی کا قبضہ کرانے کے بعد اُسے بے دخل کر دیا عدالت میں چارہ جوئی کی گئی۔حج نے اُسے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ محمد ھ ہو جاؤ تو جائداد واپس مل جائے گی۔۔۔اس 36 36