کشمیر کی کہانی — Page 315
تبادلہ نہ ہوگا تو ہمیں بھی ارشاد پہنچا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب اپنے ان ساتھیوں کو ساتھ لے کر جو پاکستان آنا چاہیں لے کر لاہور پہنچ جائیں چنانچہ اس ارشاد کی تعمیل میں آخری قافلہ ترتیب پایا جس میں کئی وہ بے بس اور مسکین مسلمان لڑکیاں بھی تھیں جنہیں احمدی جوانوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر برآمد کیا تھا۔یہ قافلہ بفضلہ تعالیٰ بخیر وعافیت 16 /نومبر 1947ء کو لاہور پہنچ گیا۔قیام کب عمل میں آیا جیسا کہ اوپر ریڈیو پاکستان کے نشریوں نیز سول اینڈ ملٹری گزٹ کے خبر ئیے اور ہفتہ وار لائٹ کے اُچٹتے سے تبصرے میں بتایا گیا ہے عارضی حکومت آزاد کشمیر کا قیام 4/اکتوبر 1947ء کو عمل میں آیا تھا۔البتہ اس کی تنظیم نو 24 اکتوبر 1947 ء کو کی گئی۔افسوس کہ بعض قلم کاروں نے آزاد کشمیر حکومت کے قیام کے سلسلہ میں شاید اصل واقعہ معلوم نہ ہونے کے باعث 24 راکتو بر کی تاریخ ہی کو قیام حکومت کی تاریخ لکھا ہے۔حالانکہ اس حقیقت کو کشمیر کے ثقہ اور مشہور مؤرخین پنڈت پریم ناتھ بزاز اور جسٹس محمد یوسف صراف نے بھی تسلیم نہیں کیا ہے بلکہ پاکستان اور یورپ کے جرائد کے کالم بھی دستاویزی شہادتوں کے طور پر موجود ہیں۔اور ان سب پر مستزاد 24 اکتوبر کو با قاعدہ قائم کی جانے والی حکومت کا یہ اعلان کہ ہم قائم شدہ آزاد کشمیر حکومت کی تنظیم نو کر رہے ہیں۔پہلا صدر اتور اس بات میں کسی باخبر کو اختلاف نہیں کہ 2 /اکتوبر 1947ء کورتن باغ لاہور میں کارکنان کشمیر کا جو تاریخی اجلاس منعقد ہوا تھا اور جو حضرت امام جماعت احمدیہ ( صاحبزادہ مرزا 319