کشمیر کی کہانی — Page 314
ویکلی لائٹ لاہور 8 /اکتوبر 1947ء) عارضی جمہوریہ کشمیر کے قیام کا اعلان چونکہ مسلمانان کشمیر کے دلوں کی دھڑکنوں کی آواز تھا اس لئے اُس کے نشر ہوتے ہی ریاست بھر میں ہر کہیں حریت پسندانہ جوش و خروش کا مظاہرہ کیا گیا۔جسے دیکھ کر مشہور کشمیر مصنف و مؤرخ پنڈت پریم ناتھ بزاز بھی یہ لکھے بغیر نہ رہ سکے۔یه تاریخی اعلان ریڈیو پاکستان سے نشر کیا گیا جسے باشندگانِ کشمیر نے پُر جوش جذبات سے سنا (ہسٹری آف دی مسٹر گل فار فریڈم ان کشمیر صفحہ 620) مشرقی پنجاب میں راقم الحروف انہی ایام میں مشرقی پنجاب میں حضرت امام جماعت احمدیہ کے فرزند ارجمند صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد ایم۔اے۔آکسن (موجودہ امام جماعت احمدیہ ) کی زیر قیادت کام کر رہا تھا۔ہم لوگ مسلمانوں کے انخلاء اور مغویہ خواتین کی بازیابی کے لئے سرگرم عمل تھے۔محترم صاحبزادہ صاحب جماعت کے جوانوں کی مرکزی تنظیم خدام الاحمدیہ کے صدر تھے اور خاکسار آپ کی مجلس عاملہ کا ایک رکن حضرت صاحبزادہ صاحب کے منصوبوں اور احکام کے تحت جس طرح گولیوں کی بوچھاڑوں کی پروانہ کرتے ہوئے مسلمان عورتوں اور بچوں کو فرقہ واریت کے درندوں کے چنگل سے چھڑایا گیا۔اُس کی تفاصیل کے لئے ایک علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے۔جسے اللہ تو فیق عطا فرمائے گا وہ جب اس خونی داستان کو رقم کرے گا تو واضح ہو گا کہ کس طرح ہمارے کئی ساتھی اس نیک سعی کو بروئے کار لاتے ہوئے ہماری آنکھوں کے سامنے شہید کر دیئے گئے لیکن ان جوانوں نے اپنا خون دے کر ہزار ہا جانوں کو بچالیا۔خدا ان جان شاران قوم پر اپنی ان گنت رحمتیں نازل فرمائے۔آمین۔جب انخلاء کا کام تقریباً مکمل ہو گیا اور دونوں حکومتوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اب قافلوں کا 318