کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 310 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 310

ہے اس اقدام کے غیر معمولی نتائج بھی نکل سکتے تھے اس لئے ضروری تھا کہ اس شر سے بچنے کے لئے حکومت پاکستان اولین فرصت میں فوری اقدامات کرے۔تاریخی اجلاس ان ایام میں امام جماعت احمدیہ صاحبزادہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب عارضی طور پر رتن باغ لاہور میں قیام پذیر تھے جہاں آئے دن کشمیر کے مسئلہ پر غور وفکر اور ( ملنے کے لئے آنے والے کشمیری کارکنوں سے ) اس سلسلہ میں مستقبل کے اقدامات کا جائزہ لیا جاتا رہتا تھا۔بمبئی میں جونا گڑھ کے متوازی حکومت قائم کئے جانے کی خبر یہاں پہنچی تو آپ نے مقتدر کشمیری مہاجرین اور ارکان مسلم کانفرنس کو ( اُن میں سے جتنے بھی اکٹھے ہو سکے ) اس سلسلہ میں مستقبل کے اقدامات کا جائزہ لیا جاتا رہتا تھا۔بمبئی میں جونا گڑھ کے متوازی حکومت قائم کئے جانے کی خبر یہاں پہنچی تو آپ نے مقتدر کشمیر مہاجرین اور ارکان مسلم کا نفرنس کو ( اُن میں سے جتنے بھی اکٹھے ہو سکے ) 2 /اکتوبر 1947 ء کورتن باغ میں جمع کیا۔اس اجلاس میں مسئلہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال پر غور و فکر اور عمیق تبادلہ خیال کے بعد درج ذیل فیصلہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر حکومت کا قیام (0) حکومت آزاد کشمیر کا فوری قیام اور اعلان از بس ضروری ہے جس میں اب دن کی تاخیر بھی مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔(ب) مقررہ آزاد کشمیر حکومت (جس کے طریق کار کا ڈھانچہ اس اجلاس نے تیار کیا ہے ) کے قیام کا اعلان بلا تاخیر ریڈیو پاکستان اور پاکستانی پریس کے ذریعہ کر دیا جائے۔(ج) اس سلسلہ میں تمام برقیئے (بشمول بیرونی پریس) راولپنڈی سے بھجوائے جائیں۔314