کشمیر کی کہانی — Page 301
کے نمائندگان کی ایک خصوصی مجلس شوری بلوائی اور اُس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مقدس " يضع الحرب" کی تعمیل میں حضرت بانی جماعت احمدیہ نے جہاد بالسیف کے التواء کا جو اعلان فرمایا تھا اس کا زمانہ اب ختم ہورہا ہے۔اس لئے جماعت کے افراد کو چاہئے کہ وہ جہاد بالسیف کے لئے تیار ہو جائیں اور جونہی ان کے امام کی طرف سے صدائے جہاد بلند ہو تن من اور دھن سے اس میں حصہ لیں۔“ چنانچہ اس کے بعد جماعت کے چیف آرگن (الفضل ) میں یہ اشتہار چھپنا شروع ہوا۔ضرورت ہے فوراً ایسے فوجیوں کی جو فوج سے فارغ ہو چکے ہیں۔عمر میں سے تمیں ہو تو اچھا ہے۔ایسے سپاہی ہونے چاہئیں جنہوں نے لڑنے والے سپاہیوں کے طور پر کام کیا ہوا ایسے اصحاب فورا مندرجہ ذیل پستہ پر خط و کتابت کریں۔“ ( بحوالہ روزنامه الفضل 19 ستمبر 1947 ء اور 24 ستمبر 1947 ء وغیرہ) اس تلقین جہاد پر زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ احمدی نوجوان جمع ہونا شروع ہو گئے جنہیں ایک ٹرینگ کیمپ میں جنگی تربیت دینے کا کام شروع ہو گیا۔انہی ایام میں پاکستان کے بعض فوجی افسروں نے امام جماعت احمدیہ سے جنگ آزادی کشمیر میں حصہ لینے کے لئے جموں محاذ پر کم از کم ایک پلاٹون بھیجنے کی فرمائش کی جس کے جواب میں چند ہی دنوں میں ۴۵ کے لگ بھگ کڑیل جوانوں پر مشتمل ایک مستعد و چاق و چوبند پلاٹون امام جماعت احمدیہ کے دوسرے صاحبزادہ میرزا مبارک احمد صاحب کی زیر کمان حکومت کو پیش کر دی گئی جس کوڈ پٹی کمشنر سیالکوٹ کے ایما پر جموں کی 305