کشمیر کی کہانی — Page 300
باب سوم جنگ آزادی کشمیر اور فرقان بٹالین امام جماعت احمدیہ نے اپنی جماعت کی خصوصی مجلس شوری ستمبر ۱۹۴۷ء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مقدس يضع الحرب کی تعمیل میں حضرت بانی جماعت احمدیہ نے جہاد باالسیف کے التواء کا جو اعلان فرمایا تھا اب اُس کا زمانہ ختم ہو رہا ہے اس لئے جماعت کے افراد کو چاہئے کہ وہ جہاد بالسیف کے لئے تیاری کریں اور جونہی ان کے امام کی طرف سے صدائے جہاد بلند ہوتن من اور دھن سے اُس میں حصہ لیں۔“ (روز نامہ الفضل 9 ستمبر 1947ء) تقسیم برصغیر کے بعد ہندوستان نے اپنی ہمسایہ مملکت پاکستان کے معاملہ میں جس قسم کا معاندانہ رویہ اختیار کر رکھا تھا۔پاکستان کے صاحب فراست لوگوں کی نگاہیں اُس کے اثرات و عواقب کا اندازہ لگا رہی تھیں چنانچہ امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اپنی چشم بصیرت سے یہ دیکھتے ہوئے کہ وطن عزیز کو اپنی سرحدوں کے دفاع کے لئے فرزندانِ وطن کی کسی وقت بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔اپنی عارضی قیام گاہ رتن باغ لاہور ہی میں اپنی جماعت 304