کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 248 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 248

بچے بھی اس سے چھین لیے جاتے تھے۔گائے کی قربانی کرنے والے اور اس میں کسی طریق سے حصہ لینے والے کے لیے سات سال قید کی سزا مقرر تھی۔اس لیے کمیشن کے سامنے مسلمانوں کا کیس پورے زور کے ساتھ پیش کیا جانا ضروری تھا۔اس غرض سے قادیان سے مشہور فاضل سنسکریت پنڈت مولوی عبداللہ ناصر الدین مولوی فاضل کا و یہ تیرتھ۔چتر ویدی) کو بھجوایا گیا۔انھوں نے کمیشن کے سامنے کئی روز تک شہادت دی اور وید کے منتروں اور سمرتیوں کے شلوکوں سے یہ ثابت کر دکھایا کہ آریہ ہندو گائے کی قربانی کو باعث ثواب یقین کرتے تھے۔اسی طرح انھوں نے ویدوں سے یہ ثابت کر دیا کہ تبدیلی مذہب کی بناء پر نہ کوئی سزا دی جاسکتی ہے نہ کسی کو جائداد سے محروم کیا جاسکتا ہے۔مولوی ناصرالدین عبداللہ صاحب چترویدی تھے (انھوں نے چاروں دید پڑھے ہوئے تھے ) سارے ہندوستان میں گنتی کے چند ہندو چترویدی تھے۔اس لیے ان کی شہادت کو رد کرنا آسان نہ تھا۔اس کے علاوہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی ہدایات کو محوظ رکھتے ہوئے چودھری عبدالواحد مدیر اعلیٰ اصلاح خواجہ غلام نبی گلکار اور خواجہ عبدالرحمن ڈار رئیس ناسنور نے بھی مفصل بیانات دیئے۔ان تمام خدمات کے اعتراف کے طور پر اور آل انڈیا کشمیر ایسوسی ایشن پر کلمی اعتماد کے اظہار کی غرض سے ریاست کے ہر حصہ سے شکریہ کی تاریں۔خطوط۔اور ریزولیوشن موصول ہوتے رہے۔نمونہ کے طور پر ملاحظہ ہو۔مسلمانان پو نچھ کا ایک عظیم الشان جلسہ جس میں خواجہ غلام احمد صاحب بٹ جنرل سیکرٹری مسلم لیگ کا نفرنس حلقہ پونچھ نے سابق آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی خدمات کو شاندار الفاظ 252