کشمیر کی کہانی — Page 230
لاہور شہر کا کوئی نہایت معمولی پبلک جلسہ نہ اس بات کا حق دار تھا کہ نئی کمیٹی بنا کر اُ سے آل انڈیا کشمیر کمیٹی قرار دیتا اور نہ اس امر کا مجاز تھا کہ پہلی کشمیر کمیٹی کوتوڑ دیتا۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا تھا کہ کسی بنے والی کمیٹی پر اظہار اعتماد کر دیا جاتا اور پرانی کمیٹی پر بے اعتمادی کی قرار داد منظور کر دی جاتی۔۔نئی کمیٹی ایک ایسی کمیٹی جو گل مسلمانان ہند کے مشورہ سے قائم ہوئی ہو۔جس کی رکنیت میں ہندوستان کے ہر حصہ اور طبقہ کے لیڈر ہوں۔اسے کمیٹی کا کوئی ایک رکن خواہ صدر ہی کیوں نہ ہو۔بغیر کمیٹی کے اجلاس اور مشورہ کے توڑنے کا مجاز نہ تھا۔لیکن ریشہ دوانوں کی شاطرانہ مہارت کہ انہوں نے عارضی قائم مقام صدر سے ایسا اعلان بھی کروالیا اور نیا طریق کار یہ تجویز ہوا کہ دہلی دروازہ کے باہر مجلس احرار کے دفتر کے سامنے ایک جلسہ کر کے نئی کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی جائے۔دہلی دروازہ کا جلسہ اس جلسہ کی کیفیت اور نمائندہ حیثیت کا اندازہ مسلم پریس کے ذیل کے تبصروں سے لگایا جاسکتا ہے۔اخبار روز نامہ سیاست لاہور نے ایک مبسوط مضمون میں لکھا: علامہ اقبال کی یہ تجویز فتنہ کی بنیاد ہے کہ مسلمان جلسہ عام کر کے کشمیر کمیٹی 234