کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 229 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 229

66 کچھ دن تشریف رکھتے اور ملزمان کے مقدمہ کی پیروی فرماتے۔۔یہ دو وکلاء کی خدمت کا ذکر ہے تیسرے وکیل کی خدمات بھی ملاحظہ ہوں۔شیخ عبدالحمید صاحب ایڈووکیٹ نمائندہ مسلمانان جموں وکشمیر نے تیسرے وکیل کے متعلق یوں ذکر کیا ہے۔وو تعصب مذہبی نے جب میاں بشیر الدین صاحب کو کشمیر کمیٹی کی صدارت سے علیحدگی پر مجبور کر دیا۔تو ان کی جگہ علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم و مغفور صدر چنے گئے۔علامہ مسلمانوں کے لحاظ سے بڑے محترم تھے مگر ان کے پاس ایسی کوئی منظم جماعت نہ تھی کہ جیسی جماعت احمد یہ میاں بشیر الدین صاحب کے تابع فرمان تھی۔اور نہ ہی علامہ کے پاس ایسا کوئی سرمایہ تھا کہ جس سے وہ ریاست کے اندر جماعت احمدیہ کی طرح اپنے خرچ پر دفاتر کھول دیتے اس لیے ان کی صدارت کے ایام میں کوئی نمایاں کام نہ ہو سکا کہاں میاں بشیر الدین محمود احمد صاحب کے حکم سے سر ظفر اللہ اور شیخ بشیر احمد ، چودھری اسد اللہ خاں وکلاء مقدمات کی پیروی کے لیے آتے رہے۔بلکہ مستقل طور پر بعض سری نگر، میر پور، نوشہرہ، جموں میں رہ کر کام کرتے رہے۔ان کے طعام و قیام وغیرہ کے تمام اخراجات بھی میاں صاحب ہی بھیجتے رہے۔ان کے مستعفی ہونے کے بعد نہ دفتر رہے نہ مستقل وکلا ء ہی رہے۔ایک بارسری نگر کے ایک کیس میں جب کہ میں شیخ صاحب کی گرفتاری پر قائم مقام صدر مسلم کانفرنس تھا۔میرے لکھنے پر انہوں نے بہار کے وکیل سرکا را انعام الحق صاحب کو سری نگر میں بحث کرنے کے لیے روانہ فرمایا۔چند دن رہے اور ہائی کورٹ میں بحث فرما کر واپس چلے گئے۔( اصل بیان مورخ کشمیر مولانا اسد اللہ کاشمیری کے پاس ہے۔ظا) 233