کشمیر کی کہانی — Page 220
کے عہدہ داروں کا جدید انتخاب ہو مجھ سے بھی اس تحریک کی تائید کے لیے کہا گیا۔اور میں نے بھی متعلقہ کا غذ پر دستخط کئے۔لیکن افسوس ہے کہ معلومہ حادثہ کی وجہ سے میں جلسہ میں موجود نہ تھا۔معلوم ہوا ہے کہ اس جلسہ میں مرزا صاحب کا استعفے منظور کر لیا گیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے۔مولا نا چودھری غلام رسول صاحب مہر نے بھی سیکرٹری کے عہدہ سے استعفے داخل کر دیا ہے۔اور ان کی جگہ ملک برکت علی کا تقرر عمل میں آیا۔میں خوش ہوں کہ ایسا ہوا۔اس لیے کہ میری دانست میں اپنی اعلیٰ قابلیت کے باوجود ڈاکٹر اقبال اور ملک برکت علی دونوں اس کام کو چلا نہیں سکیں گے۔اور یوں دنیا پر واضح ہوجائے گا۔کہ جس زمانہ میں کشمیر کی حالت نازک تھی اس زمانہ میں جن لوگوں نے اختلاف عقائد کے باوجود مرزا صاحب کو صدر منتخب کیا تھا۔انھوں نے کام کی کامیابی کو زیر نگاہ رکھ کر بہترین انتخاب کیا تھا اس وقت اگر اختلافات عقائد کی وجہ سے مرزا صاحب کو منتخب نہ کیا جاتا تو تحریک بالکل ناکام رہتی اور اُمتِ مرحومہ کو سخت نقصان پہنچتا۔میری رائے میں مرزا صاحب کی علیحدگی کمیٹی کی موت کے مترادف ہے۔مختصر یہ کہ ہمارے 6 انتخاب کی موزونیت اب دنیا پر واضح ہو جائے گی۔والحمدللہ علی ذلک۔۔۔(روز نامہ سیاست مورخه ۱۸ رمئی ۶۳۳) نئے عہدہ داروں کا رویہ نئے انتخاب کا سوال اگر نیک نیتی پر مبنی ہوتا اس سوال کے اُٹھانے والوں اور نئے 224