کشمیر کی کہانی — Page 215
مسلمانوں کا ایک عظیم جلسہ ۱۶ رمئی ۳۳ء کو منعقد ہوا اور یہ قرار داد منظور کر کے بذریعہ تار اخبارات کو اور حضرت مرزا صاحب کو بھجوائی گئی۔ہمیں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب پریذیڈنٹ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے مستعفی ہو جانے کی خبر سن کر بہت صدمہ ہوا ہم آپ کے شاندار کام کا دل سے اعتراف کرتے ہیں جس کیلئے وہ صدق دلا نہ تعریف کے مستحق ہیں۔۔۔شیخ محمد عبد اللہ شیر کشمیر نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا جس میں لکھا: وو میں مختصر عرض کرتا ہوں کہ آپ خدا را ایک بار پھر مظلوم کشمیریوں کو بچائیے اور اپنے کارکن روانہ کیجئے۔۳۱ رمئی ۳۳، کو شیخ محمدعبداللہ اور بعض اور کشمیری لیڈروں کو حکومت ریاست کشمیر نے ایک بار پھر گرفتار کرلیا۔شیخ صاحب کے ساتھ خواجہ غلام نبی گلکار اور بخشی غلام محمد بھی گرفتار ہوئے۔جیل جانے سے قبل شیخ صاحب ایک عریضہ امام جماعت احمدیہ کی خدمت میں لکھ کر ایک معتمد عبدالاحد کے سپر د کیا۔اس عریضہ پر اپنے دونوں ساتھیوں کے دستخط کروائے۔شیخ صاحب نے لکھا وو ام اس حیثیت سے کہ کشمیر کے مظلوم ہیں اور ہمارا جرم صرف اسلام ہے۔ہم حضور سے بحیثیت امام جماعت احمد یہ ہونے کے طالب امداد ہیں۔حضور ہماری امدا د فرما کر عنداللہ ماجور ہوں گو ہمیں اس امر کا از حد صدمہ ہے کہ حضور نے اپنا دستِ شفقت ( بعض کم فہم اصحاب کی وجہ سے ) ہمارے سر پر سے اُٹھالیا ہے۔مگر آپ کی ذات سے ہمیں پوری اُمید ہے 219