کشمیر کی کہانی — Page 188
مسلم اتحاد زندہ باد کے نعرے لگائے اور یہ قضیہ نا مرضیہ مسلمانوں کی اخلاقی فتح “ پر ختم ہو گیا۔اموال اور کارکنان سے امداد شیخ محمد عبداللہ نے صدر کشمیر کمیٹی سے درخواست کی کہ کشمیر کے مسلمانوں کا اتنا بڑا اور نمائندہ اجتماع اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ہمیں زیادہ تجربہ بھی نہیں اس لیے آپ مولانا عبد الرحیم درد (سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی ) کو سری نگر بھجوادیں تا کہ وہ جملہ انتظامات کی نگرانی کریں۔اور ہمیں اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازتے رہیں۔ان کی درخواست کو منظور فرماتے ہوئے محترم صدر نے نہ صرف ہر طرح کی مدد کرنے کا وعدہ فرمایا بلکہ امداد بھجوادی۔اور بھاری مالی امداد کے علاوہ ایک بڑی کا رخرید کر شیخ محمد عبد اللہ کو بھجوا دی گئی تاکہ وہ کارکنان کے ساتھ بآسانی ریاست کا دورہ کر سکیں۔مولانا در دصاحب پھر کشمیر میں مولا نا عبد الرحیم درد کو کانفرنس سے کئی روز پہلے سری نگر بھجوایا گیا تھا۔ان کے ہمراہ کشمیر کمیٹی کے رکن مولوی اسمعیل غزنوی اور راقم الحروف بھی تھے۔ہم چند روز نسیم باغ میں رہے۔اس کے بعد اپنی گذشتہ سال والی جگہ ” آبی گذر پر ہاؤس بوٹ لے آئے۔عملاً یہی ہاؤس بوٹ مسلم کانفرنس کا دفتر بھی تھا جہاں رات دن کام ہوتا اور خوب گہما گہمی رہتی تھی۔مولا نادرد کی ہدایت کے ماتحت میں نے مسلم کا نفرنس کے دفتر کی تنظیم کی آمد کے لیے رسید بک ، روز نامچہ، کھانہ اور تمام رجسٹر ( آمد ڈاک) روانگی ڈاک ، رجسٹر سائر اخراجات ، قبض الوصول ،رجسٹر جائداد منقولہ) غرض ہر قسم کے رجسٹروں کے فارم نہ صرف تجویز کئے بلکہ بنا کر دیے۔تا کہ دوسری بعض تنظیموں میں صحیح دفتری ضابطہ کی پابندی نہ کرنے سے جو خرابیاں پیدا ہوکر سر 192