کشمیر کی کہانی — Page 187
عناصر اپنی اپنی جگہ پھر بھی مصروف کار رہے اور عین اس وقت جب کہ کانفرنس کے انعقاد کی تیاریاں بڑے زوروں پر تھیں ایک افسوس ناک ہندومسلم فساد ہو گیا۔ہوا یہ کہ سری نگر میں سرکاری طور پر ”ہفتہ صحت منایا جانا تھا۔جب یہ ہفتہ شروع ہوا مسلمان پوری تن دہی سے حکومت سے تعاون کرنے لگے۔اور گلی کوچوں اور بازاروں اور شاہراہوں کو صاف ستھرا بنادیا آخری روز ایک عظیم الشان جلوس نکل رہا تھا۔جلوس میں ( بہت بڑی ) اکثریت مسلمانوں ہی کی تھی۔جب جلوس ہبہ کدل میں سے گزرنے لگا جہاں کشمیری پنڈتوں کی بھاری اکثریت ہے تو ہندؤں نے دکانوں اور مکانوں پر سے پتھراؤ شروع کر دیا۔بوتلیں پھینکی گئیں۔جلوس میں شامل بعض مسلمانوں کو پیٹا گیا۔بہت سے مسلمان بری طرح زخمی ہوئے حکومت کی طرف سے پہلے دفعہ ۱۴۴ نافد کی گئی پھر کر فیولگا دیا گیا۔اور سارے شہر پر فوج کا قبضہ ہو گیا۔لیکن ہندو پولیس اور ہند وملٹری نے مسلمانوں ہی کو آلام کا نشانہ بنانے کی کوشش کی۔اس ساری کاروائی کا مقصد آل کشمیر مسلم کانفرنس“ کے قیام والے اجلاس کے انعقاد کو روکنے کے سوا اور کچھ نہ ہوسکتا تھا۔مسلمانانِ کشمیر نے اس موقع پر انتہائی تحمل و بر باری اور سوجھ بوجھ سے کام لیا۔جس کا خاطر خواہ نتیجہ بھی نکلا۔تین چار دن کی متواتر کوشش سے حالات سدھر گئے۔کشمیری پنڈتوں نے پنڈت جیالال کلم کی سرکردگی میں ایک بہت بڑا جلوس نکالا اور مسجد اہل حدیث کے پاس آکر رک گئے جہاں مسلمان پہلے سے جمع تھے۔شیخ محمد عبد اللہ بھی وہاں موجود تھے۔شیخ صاحب نے مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ یہ لوگ آپ سے معافی مانگنے آئے ہیں ان کے ساتھ آپ وہی سلوک کریں جو آپ کے آقا حضرت محمد مصطفے ( ع ) نے کیا تھا۔یعنی انہیں معاف کر دیں۔پنڈت جیالال کلم نے انتہائی لجاجت سے معافی مانگی۔جس پر سب نے مل کر ہندو 191