کشمیر کی کہانی — Page 170
تک پہنچ جاتا اس سے عام بیداری اور جوش پیدا ہونے کے علاوہ ریاستی باشندے حالات سے بھی باخبر رہتے تھے۔( یہ تمام خطوط تاریخ کا ضروری حصہ ہیں اور تفصیل سے تاریخ لکھنے والا ان کو ضر ور نقل کرے گا۔ظا) اسیروں کی رستگاری سیاسی اسیروں کی قید کا زمانہ لمبا ہوتا جار ہا تھا۔گوان قیدیوں کی پکار تو یتھی ؟ وہ ہوں گے اور کوئی ان کی دھمکی سے جو ڈر جائیں ہمیں ڈرنے سے کیا نسبت کہ ہم ہیں شیر ربانی ہمیں شوق شہادت ہے یہ مقتل کیا یہ جنت ہے بوقت ذبح کیا ممکن جو ظاہر ہو پریشانی (طاہر) لیکن قوم کا بھی تو کچھ فرض تھا۔اسے جھنجھوڑنے کیلئے محترم میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اپنے ایک مطبوعہ مکتوب میں لکھا:۔ہر قوم جو زندہ رہنا چاہتی ہے۔اُس کا فرض ہے کہ اپنے لیڈروں اور کارکنوں سے وفاداری کا معاملہ کرے۔اور اگر قومی کا رکن قید ہیں اور لوگ تسلی سے بیٹھ جائیں تو یہ امر یقیناً خطر ناک قسم کی بے وفائی ہوگا۔مسلمانانِ جموں وکشمیر کو یاد رکھنا چاہیے کہ گو وہ بہت سے ظلموں کے تلے دبے چلے آتے ہیں۔پھر بھی اُن کی حالت یتیموں والی نہ تھی۔کیونکہ جب تک اُن کے لیے جان دینے والے لوگ موجود تھے۔وہ یتیم نہ تھے۔لیکن اگر وہ 174