کشمیر کی کہانی — Page 163
متحد اور متفق ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک عمل کرنا چاہئے۔۔خواجہ غلام احمد عشائی نے لکھا تھا 66 مجھے افسوس ہے کہ تفرقہ پیدا کیا گیا ہے۔میں خود مرزائی نہیں اور نہ اہلحدیث۔مگر اس جدو جہد میں ہم فرقہ داری سے بالا ہو کر تمام اہل اسلام خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں متفق ہوکر کامیابی کی امید رکھتے تھے چودھری غلام عباس کا خط چودھری غلام عباس کا جو خط پڑھ کر سنایا گیا اس میں انہوں نے لکھا تھا:۔مجھے یہ دیکھ کر کہ مسلمانان کشمیر کے درمیان تفرقہ پردازی کی وسیع خلیج حائل ہوگئی ہے از حد اور دلی صدمہ ہوا ہے اس وقت مسلمانوں پر دور ابتلاء ومصیبت ہے اور رہبران قوم کی ذراسی لغزش بھی تباہی کا حکم رکھے گی۔۔۔اسی طرح لکھا:۔وو ،،۔۔۔موجودہ سوال قوم کا من الحیث القوم سوال ہے۔اور نہ حکومت نے گولی چلاتے۔۔۔گرفتاریاں عمل میں لاتے اور تشدد کرتے وقت ہی فرقہ دارانہ تمیز سے کام لیا ہے۔نمائندگان کو مخاطب کر کے کہا:۔خدارا موقع کی نزاکت اور اہمیت کو سمجھ لیجئے۔اور قوم کو افتراق سے بچائیے اور ایسی راہ اختیار کیجئے۔جس سے مسلمانانِ ریاست کی مشکلات 167