کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 161 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 161

ہے کہ سب ٹھیک ہے۔وکلاء نے حلفی بیان تک حکام کے سامنے دیئے۔لیکن پھر بھی آنے والے خطرہ کو روکنے کے لیے کوئی تدبیر نہ کی گئی۔ٹائلٹن رپورٹ میں ان حکام اور افسران کو بجا طور پر ملزم گردانا گیا ہے ملاپ ۲۰ / مارچ ۶۳۲) ریاست کی نئی چال باشندگان ریاست کی نظر میں مڈلٹن اور کلینسی کمیشنوں کی طرف لگی ہوئی تھیں۔پھر شہداء کے کنبوں کے گزارہ کا انتظام کرنا لازم تھا۔اور اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے انتہائی جدو جہد کی ضرورت تھی۔ایسے وقتوں میں ریاستی حکام نے نمائندگان جموں وکشمیر میں پھوٹ ڈلوانے کی کوشش کی۔ایسی کوششیں وہ پہلے بھی ریاست سے باہر ہندوستان میں کرنے کے بعد نا کام ہو چکے تھے لیکن ریاست میں انھیں ایک حد تک کامیابی ہوگئی۔اور بعض نمائندگان نے فرقہ وارانہ سوال کو ہوا دینے کی کوشش شروع کر دی۔یہ اتنا بڑا فتنہ تھا کہ اگر اس کا انسداد فوری نہ کیا جاتا۔تو سب قربانیاں اور مظلومین کا خون ضائع جاتا۔اس لیے اس کا انسداد سمجھ دار لوگوں نے اس طرح کیا۔کہ ایک جلسہ عام سری نگر میں دسمبر ۳۱ ء کے آخر میں کیا۔اس میں ہر فرقہ کے لوگوں کو مدعو کیا گیا۔تا کہ اجلاس کو نمائندہ حیثیت حاصل ہو جائے۔نمائنده جلسه اس جلسہ میں جو کشمیر کے مشہور مذہبی لیڈر میر واغط مولا نا احمد اللہ ہمدانی کی صدارت میں ہوا۔خواجہ غلام نبی گل کار مرزا محمد افضل بیگ۔مفتی ضیاء الدین ضیا۔مسٹر محمد یوسف۔مفتی جلال الدین ایم۔اے۔پیر مقبول شاہ۔پیر محی الدین۔خواجہ غلام محی الدین کرہ۔مسٹر غلام مرتضی۔ایم۔ایس سی۔مسٹر ثناء اللہ۔مسٹر محمد امین اور مسٹر غلام بنی خان سب کے سب قابل 165